حیات طیبہ

by Other Authors

Page 406 of 492

حیات طیبہ — Page 406

406 آپ بہت سے افترا میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور ان تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہوسکتا۔اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پر چہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے دشمنوں کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔تا خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے۔اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں۔تو میں خدا کے فضل سے اُمید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں۔بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئی۔تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشگوئی نہیں۔بلکہ محض دُعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔اور میں خدا سے دُعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم وخبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افترا ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں۔اور دن رات افترا کرنا میرا کام ہے۔تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دُعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر۔اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔آمین۔مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں۔تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی اُن کو نابود کر۔مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے رو برو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بد زبانیوں سے تو بہ کرے۔جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔آمین یا رب العالمین۔میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد سے گزر گئی۔وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں۔جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بدزبانیوں میں آیت لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا۔اور دُور دُور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا ہے کہ یہ شخص در حقیقت مفسد اور ٹھنگ اور دکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بدآدمی ہے۔سو اگر ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بداثر نہ ڈالتے۔تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے ہاتھ سے بنائی ہے۔اس لئے اب