حیات طیبہ

by Other Authors

Page 20 of 492

حیات طیبہ — Page 20

20 رُک رُک جاتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ضلع گورداسپور میں ایک ایسا انگریز افسر آیا جو آپ کے والد صاحب کا پہلے سے متعارف تھا۔انہوں نے اس موقعہ کو غنیمت سمجھ کر موضع کا ہلواں کے ایک سکھ مسمی جھنڈا سنگھ کو کہا کہ جاؤ غلام احد کو بلا لاؤ۔ایک انگریز حاکم میرا واقف ضلع میں آیا ہے۔اس کا منشاء ہو تو کسی اچھے عہدے پر نوکر کرا دوں‘ جھنڈ اسنگھ کا بیان ہے کہ میں مرزا صاحب کے پاس گیا تو دیکھا کہ چاروں طرف کتابوں کا ڈھیر لگا کر اس کے اندر بیٹھے ہوئے کچھ مطالعہ کر رہے ہیں۔میں نے بڑے مرزا صاحب کا پیغام پہنچا دیا۔مرزا صاحب آئے اور جواب دیا ”میں نے تو جہاں نو کر ہونا تھا ہو چکا ہوں۔بڑے مرزا صاحب کہنے لگے کہ کیا واقعی نوکر ہو گئے ہو؟ مرزا صاحب نے کہا ”ہاں۔ہو گیا ہوں“۔اس پر بڑے مرزا صاحب نے کہا اچھا اگر نوکر ہو گئے ہو تو خیر۔اے ذہن رسا رکھنے والا والد اپنے نیک بخت لڑکے کے اشاروں کو خوب سمجھتا تھا۔جب اس نے کہا کہ مجھے کسی دنیوی نوکری کی ضرورت نہیں میں حضرت احدیت کے حضور نوکر ہو گیا ہوں تو آپ کے والد محترم فور اسمجھ گئے اور فرمایا کہ اگر واقعی نوکر ہو تو پھر خیر ہے لیکن یہ ایک وقتی جذبہ تھا جس کے ماتحت آپ کے والد صاحب خاموش ہو گئے۔ورنہ اُن کے دل کی اندرونی آواز یہی تھی کہ خاندان کی وجاہت کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کسی نہ کسی جگہ ملازمت کر کے دنیوی وقار حاصل کریں چنانچہ بعض مقامات پر آپ ملازمت کے لئے بھجوائے بھی گئے مگر آپ کا دل کہیں بھی نہیں لگا۔ہاں آئندہ زندگی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے سپر د جو عظیم الشان کام کیا جانے والا تھا اس کے سلسلہ میں آپ کو بہت سے تجربات حاصل ہو گئے۔سیالکوٹ میں ملا زمت آپ کو ۱۸۶۴ء کے قریب سیالکوٹ میں بکراہت چند سال سرکاری ملازمت کرنی پڑی اور اس ملازمت کی وجہ سے آپ چار سال سیالکوٹ میں رہے۔وہاں جو تجربہ آپ کو حاصل ہوا اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: اس تجربہ سے مجھے معلوم ہوا کہ اکثر نوکری پیشہ نہایت گندی زندگی بسر کرتے ہیں۔ان میں بہت کم ایسے ہونگے جو پورے طور پر صوم وصلوٰۃ کے پابند ہوں اور جو ان ناجائز حظوظ سے اپنے تیں بچاسکیں جو ابتلا کے طور پر اُن کو پیش آتے رہتے ہیں۔میں ہمیشہ ان کے منہ دیکھ کر حیران رہا ل سیرۃ المہدی حصہ اوّل طبع اوّل صفحہ ۴۸