حیات طیبہ

by Other Authors

Page 370 of 492

حیات طیبہ — Page 370

370 مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں ہے۔بلکہ ان نمازیوں کے ساتھ ہے جو اخلاص کیساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ورنہ یہ سب مساجد ویران پڑی ہوئی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد چھوٹی سی تھی۔کھجور کی چھڑیوں سے اس کی چھت بنائی گئی تھی اور بارش کے وقت چھت میں سے پانی ٹپکتا تھا۔الخ حضرت مولوی نورالدین صاحب کو دہلی بلوالیا دہلی پہنچ کر حضرت اقدس کو خیال آیا کہ اگر مولوی نور الدین صاحب کو بھی دہلی بلالیا جائے۔تو بہتر رہے گا۔چنانچہ مولوی صاحب کو تار دلوادی۔۱/۲۸ اکتوبر ۱۹۰۵ ء کو جب یہ تار قادیان پہنچی تو حضرت مولوی صاحب اپنے مطب میں بیٹھے ہوئے تھے۔اس خیال سے کہ حکم کی تعمیل میں دیر نہ ہو۔اسی حالت میں فورا چل پڑے۔نہ گھر گئے نہ لباس بدلا نہ بستر لیا۔اور نہ کوئی اور تیاری کی۔بلکہ یکہ کی بھی انتظار نہیں کی۔سیدھے بٹالہ کی طرف پیدل ہی چل پڑے۔دوستوں کو جب آپ کے اس طرح بغیر ساز و سامان کے عازم سفر ہونے کی اطلاع ملی تو انہوں نے ضروری سامان آپکو بٹالہ کے رستہ میں ہی پہنچادیا۔۲۹/اکتوبر کو آپ دہلی اپنے امام کے حضور پہنچ گئے۔آپ کو ماننا کیوں ضروری ہے؟ ۱/۲۵اکتوبر کو چند مولوی صاحبان معہ کچھ طلبہ حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ہم نمازیں پڑھتے ہیں روزے رکھتے ہیں۔قرآن اور رسول کو مانتے ہیں۔آپ کو ماننے کی کیا ضرورت ہے؟ فرمایا: ”انسان جو کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کرتا ہے۔وہ سب موجب معصیت ہو جاتا ہے۔ایک ادنی سپاہی سر کار کی طرف سے کوئی پروانہ لے کر آتا ہے تو اس کی بات نہ ماننے والا مجرم قرار دیا جاتا ہے اور سزا پاتا ہے۔مجازی حکام کا یہ حال ہے تو احکم الحاکمین کی طرف سے آنے والے کی بے عزتی اور بے قدری کرنا کس قدر عدول حکمی اللہ تعالیٰ کی ہے۔خدا تعالیٰ غیور ہے۔اس نے اپنی مصلحت کے مطابق عین ضرورت کے وقت بگڑی ہوئی صدی کے سر پر ایک آدمی کو بھیجا۔تا کہ وہ لوگوں کو ہدایت کی طرف بلائے۔اس کے تمام مصالح کو پاؤں کے نیچے کچلنا ایک بڑا گنا ہے۔۔۔ملاقات کے قابل لوگ 66 شام کو ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب سے در میافت فرمایا کہ آج آپ نے کہاں کہاں کی سیر کی ہے؟ ڈاکٹر