حیات طیبہ

by Other Authors

Page 348 of 492

حیات طیبہ — Page 348

348 راست گوئی کا علم آپ کو اس طرح ہوا کہ سیالکوٹ چھاؤنی میں ایک مسجد ہے جس کے امام اور متولی حضرت مولوی ابویوسف مبارک علی صاحب تھے۔وہ چونکہ احمدی ہو گئے تھے اس لئے مسجد پر بھی قبضہ احمد یوں کا ہی تھا۔کچھ عرصہ کے بعد غیر احمد یوں نے اس مسجد پر مخالفانہ قبضہ کرنا چاہا۔حضرت اقدس کی خدمت میں معاملہ پیش ہوا۔حضور نے فرمایا۔اگر چوہدری نصر اللہ خاں صاحب مان جائیں تو آپ لوگ اپنے مقدمہ میں اُن کو وکیل کر لیں۔اب وکالت کا حق ادا کرنے کے لئے ضروری تھا کہ آپ حضرت اقدس کے لٹریچر کا مطالعہ فرماتے۔چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا۔جب عدالت میں پیش ہوئے تو دیکھا کہ احمدیوں کی مخالفت میں بڑے بڑے مولوی صاحبان آتے ہیں اور جھوٹ بولنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے لیکن ہر احمدی گواہ وہی بات کہتا ہے جس کا اسے یقینی علم ہوتا ہے اور جھوٹ بولنے سے سخت نفرت کرتا ہے۔والد صاحب دوران مقدمہ میں احمدیوں اور غیر احمد یوں کے کیریکٹر کا گہری نظر سے مطالعہ کر رہے تھے اور احمدیوں کی شہادتوں سے متاثر ہورہے تھے۔چنانچہ ایک موقعہ پر جب حاکم مجاز نے آپ سے کہا کہ چودھری صاحب! کیا آپ بھی احمدی ہیں؟ تو والد صاحب نے فرمایا کہ پہلے تو نہیں تھا مگر اب معلوم ہوتا ہے کہ مجھے بھی احمدی ہونا پڑے گا اور ثبوت میں مقدمہ کے واقعات پیش کئے اور فرمایا کہ جس شخص کے متبعین کا یہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ انہیں کوئی بھی دینی پوزیشن حاصل نہیں۔مگر صریحا اپنا نقصان دیکھتے ہوئے بھی سچائی کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تو جس کے وہ مرید ہیں اس کا کیا حال ہوگا۔میں یہ عرض کر رہا تھا کہ اس روز بہت لوگوں نے بیعت کی۔بیعت کے بعد حضور نے ایک نصیحت آمیز تقریر فرمائی جس میں بیعت کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔سیالکوٹ وہ شہر تھا۔جہاں آپ بسلسلہ ملازمت ۱۸۷۴ء سے لیکر ۱۸۶۷ء تک چار سال رہ چکے تھے مگر اس زمانہ میں صرف چند اشخاص کی آپ سے شناسائی تھی اور باقی لوگ آپ کے نام تک سے نا آشنا تھے اور اب جوحضور تشریف لے گئے تو خدا تعالیٰ کے ایک عظیم الشان مامور کی حیثیت سے گئے۔اس لئے آپ کی آمد سے قبل لوگ اس طرح جمع ہو گئے۔جیسے ایک بگل بجا کر حکما لوگ جمع کئے جاتے ہیں اور اس موقعہ کے نظارہ سے جہلم کا موقعہ آنکھوں کے سامنے آگیا۔قادیان کو واپسی ۳/ نومبر ۱۹۰۴ء نومبر ۱۹۰۴ء کے روز آپ کو واپسی قادیان کے لئے روانہ ہونا تھا۔حضور جس مکان پر قیام فرما تھے۔اس کے باہر حسب معمول صبح سے ہی لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے۔حضرت اقدس نے احتیاطا اپنی روانگی سے کافی وقت پہلے مستورات کو حضرت میر ناصر نواب صاحب کے ساتھ اسٹیشن پر بھیج دیا تھا۔جماعت سیالکوٹ نے صبح دس