حیات طیبہ

by Other Authors

Page 337 of 492

حیات طیبہ — Page 337

337 مرحوم کو ہزاروں پتھروں سے قتل کیا گیا۔تو انہیں دنوں میں سخت ہیضہ کا بل میں پھوٹا اور بڑے بڑے ریاست کے نامی اس کا شکار ہو گئے اور بعض امیر کے رشتہ دار اور عزیز بھی اس جہان سے رخصت ہوئے۔مگر ابھی کیا ہے۔یہ خون بڑی بے رحمی کے ساتھ کیا گیا ہے اور آسمان کے نیچے ایسے خون کی اس زمانہ میں نظیر نہیں ملے گی ! اس نادان امیر نے کیا کیا۔کہ ایسے معصوم شخص کو کمال بیدردی سے قتل کر کے اپنے تئیں تباہ کر لیا۔اے کابل کی زمین ! تو گواہ رہ۔کہ تیرے پر سخت جرم کا ارتکاب کیا گیا۔اے بدقسمت زمین! تو خدا کی نظر سے گر گئی کہ تو اس ظلم عظیم کی جگہ ہے۔1 اس قتل میں امیر کابل سے بھی زیادہ ذمہ دار اس کا بھائی سردار نصر اللہ خاں تھا۔اس کے متعلق مسٹر انگس ہملٹن لکھتے ہیں : ( شہید مرحوم کی سنگساری کے دوسرے ہی دن یعنی ۱۵ / جولائی ۱۹۰۳ء کو۔ناقل ) افغانستان کے شہر کابل اور شمال و مشرقی صوبجات میں زور و شور سے ہیضہ پھوٹ پڑا۔جو اپنی شدت کے سبب سے ۱۸۷۹ء کی وباء ہیضہ سے بدتر تھا۔سردار نصر اللہ خاں کی بیوی اور ایک بیٹا اور خاندان شاہی کے کئی افراد اور ہزار ہا باشندگان کا بل اس وبا کے ذریعہ لقمۂ اجل ہوئے اور شہر میں افراتفری پڑگئی کہ ہر شخص کو اپنی جان کا فکر لاحق ہو گیا اور ایک دوسرے کے حالات سے بے فکر اور بے خبر ہو گیا۔“ امیر حبیب اللہ خاں کا قتل ۲۰ فروری ۱۹۱۹ء امیر حبیب اللہ خاں جن کے زمانہ میں حضرت شہید مرحوم کو سنگسار کیا گیا تھا۔اپنے بھائی نصر اللہ خاں کی سازش سے ۲۰ فروری ۱۹۱۹ء کی رات کو سوتے وقت پستول کے ایک ہی فائر سے ہمیشہ کی نیند سلا دیئے گئے۔سردار نصر اللہ خاں کا حشر امیر حبیب اللہ خاں کے قتل ہو جانے کے بعد ان کے جائز وارث سردار عنایت اللہ خاں کا حق غصب کر کے سردار نصر اللہ خاں بادشاہ بن بیٹھا۔یہ حالت دیکھ کر سردار امان اللہ خاں نے جو امیر حبیب اللہ خاں کے تیسرے فرزند تھے۔اراکین سلطنت اور علماء کو اپنے ساتھ ملا کر تخت حکومت پر خود قبضہ کر لیا۔اور سردار نصر اللہ خاں اور اس کے ساتھیوں کو پابجولان حاضر دربار ہونے کا حکم دیا۔اور ۱/۳ پریل ۱۹۱۹ء کو ارک شاہی میں نظر بند کر دیا اور بعد ے تذکرۃ الشہادتین صفحه ۷۲ دیکھئے افغانستان صفحہ ۴۵ مصنفہ مسٹر انگس ہملٹن