حیات طیبہ — Page 324
324 میں کیا نکلا ہے۔کیونکہ آپ نے یک لخت ٹھک کرئے کی اور پھر سر اٹھا لیا۔مگر میں اس کے دیکھنے کے لئے جھکا۔تو حضور نے فرمایا کیا ہے؟ میں نے عرض کیا۔حضور قے میں خون نکلا ہے۔تب حضور نے اس کی طرف دیکھا۔پھر خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب اور دوسرے لوگ کمرہ میں آگئے اور ڈاکٹر کو بلوایا گیا۔ڈاکٹر انگریز تھا۔وہ آیا اور قے دیکھ کر خواجہ صاحب کے ساتھ انگریزی میں باتیں کرتا رہا۔جس کا مطلب یہ تھا کہ اس بڑھاپے کی عمر میں اس طرح خون کی گئے آنا خطرناک ہے۔پھر اس نے کہا کہ یہ آرام کیوں نہیں کرتے ؟ خواجہ صاحب نے کہا کہ آرام کس طرح کریں۔مجسٹریٹ صاحب قریب قریب کی پیشیاں ڈال کر تنگ کرتے ہیں۔حالانکہ معمولی مقدمہ ہے۔جو یونہی طے ہو سکتا ہے اس نے کہا۔اس وقت آرام ضروری ہے میں سرٹیفکیٹ لکھ دیتا ہوں۔کتنے عرصہ کے لئے چاہیئے ؟ پھر خود ہی کہنے لگا۔میرے خیال میں دو مہینے آرام کرنا چاہئے۔خواجہ صاحب نے کہا فی الحال ایک مہینہ کافی ہوگا اس نے فورا ایک مہینے کے لئے سرٹیفکیٹ لکھ دیا اور لکھا کہ میں اس عرصہ میں ان کو کچہری میں پیش ہونے کے قابل نہیں سمجھتا۔اس کے بعد حضرت صاحب نے واپسی کا حکم دیا۔مگر ہم سب ڈرتے تھے کہ اب کہیں کوئی نیا مقدمہ نہ شروع ہو جائے۔کیونکہ دوسرے دن پیشی تھی اور حضور گورداسپور آ کر بغیر عدالت کی اجازت کے واپس جارہے تھے مگر حضرت صاحب کے چہرہ پر بالکل اطمینان تھا۔چنانچہ ہم سب قادیان چلے آئے۔دوسرے روز ۱۶ / فروری کو تاریخ پیشی تھی۔عدالت میں حضرت اقدس کی بیماری کا ڈاکٹری سرٹیفکیٹ پیش کر دیا گیا۔جسے دیکھ کر مجسٹریٹ صاحب بہت برافروختہ ہوئے۔مگر کر کچھ نہیں سکتے تھے چیفکورٹ میں جو درخواست انتقال مقدمہ کے لئے پیش کی گئی تھی وہ بھی ۲۲ فروری ۱۹۰۴ء کو نامنظور ہوگئی اور ۲۳ فروری کو مقدمہ پھر لالہ چند لعل صاحب کی عدالت میں ہی پیش ہوا۔اس دن حضرت اقدس کی طرف سے مسٹر اوگار من صاحب بیرسٹر ، خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب بطور وکیل پیش ہوئے۔فرد جرم لگا دی گئی باوجود اس کے کہ خواجہ کمال الدین صاحب نے ۹ / مارچ ۱۹۰۴ کوقریبا چارگھنٹے تک اس امر پر مدلل بحث کی کہ یہ مقدمہ ہمارے خلاف نہیں چل سکتا۔مگر مجسٹریٹ صاحب چونکہ فرد جرم لگانے کا مصمم ارادہ کر چکے تھے۔ل سيرة المهدی حصہ اوّل ملخصاً بقدر الحاجة