حیات طیبہ

by Other Authors

Page 317 of 492

حیات طیبہ — Page 317

317 ابھی شائع نہیں کی گئی تھی۔صریحا سرقہ ہے۔۳۔تیسرا استغاثہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم کی طرف سے ازالہ حیثیت عرفی کا تھا۔کیونکہ مولوی کرم الدین نے شیخ صاحب کے خلاف سراج الاخبار میں بعض ایسی باتیں لکھی تھیں۔جو ان کی حیثیت عرفی کے خلاف تھیں۔اس استغاثہ میں مولوی کرم الدین کے ساتھ فقیر محمد ایڈیٹر سراج الاخبار، جہلم بھی ملزم تھے۔مولوی کرم الدین کا استغاثہ جب مولوی کرم الدین صاحب نے دیکھا کہ ازالہ حیثیت عرفی کا جو مقدمہ میں نے لالہ سنسار چند مجسٹریٹ درج اوّل جہلم کی عدالت میں (حضرت ) میرزا صاحب کے خلاف دائر کیا تھاوہ خارج ہو گیا اور سیشن جج کی عدالت میں جو نگرانی دائر کی تھی وہ بھی خارج کر دی گئی تو انہوں نے حضرت اقدس علیہ السلام کی کتاب ” مواہب الرحمن میں درج شدہ اُس پیشگوئی کی بناء پر آپ کے خلاف جہلم میں ازالہ حیثیت عرفی کا دعویٰ دائر کر دیا۔جس میں یہ مضمون تھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ مجھ پر ایک کذاب اور لیم شخص ایک بہت بڑا بہتان لگائے گا اور میری عزت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔مگر مجھے نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔مولوی کرم الدین نے اپنے استغاثہ میں لکھا کہ اس عبارت میں مجھے کذاب اور لیم کہا ہے اور کذاب کے معنی جھوٹے کے بھی ہیں اور بہت جھوٹے کے بھی۔اور ٹیم کے معنی عام طور پر کمینہ کے ہیں۔مگر کبھی کبھی لئیم ولد الزنا کو بھی کہتے ہیں۔لہذا ایسے سخت الفاظ استعمال کر کے مرزا صاحب نے میری حیثیت عرفی کا ازالہ کیا ہے۔ساتھ ہی حضرت حکیم مولوی فضل الدین صاحب کے خلاف بھی یہ الزام عائد کیا۔کہ کتاب مواہب الرحمن ان کے مطبع میں چھپی تھی۔غرضیکہ دونوں طرف سے مقدمات شروع ہو گئے۔درخواست ہائے انتقال مقدمہ مولوی کرم الدین صاحب یہ چاہتے تھے کہ ان مقدموں کی سماعت جہلم میں ہو اور حضرت اقدس کی خواہش یہ تھی کہ ان مقدمات کی سماعت گورداسپور میں ہو۔لہذا جب مولوی کرم الدین نے چیف کورٹ میں گورداسپور کے مقدمات کو جہلم میں منتقل کئے جانے کی درخواست کی تو حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب اور حضرت حکیم مولوی فضل دین صاحب نے بھی چیفکورٹ میں یہ درخواست دیدی کہ جہلم کا مقد مہ گورداسپور میں منتقل ہو جائے۔چنانچہ مولوی کرم الدین کی درخواست نا منظور ہوئی اور حضرت شیخ صاحب کی منظور ہوگئی اور ۱۵ رمئی ۱۹۰۳ء کو مقدمات کی سماعت کے لئے پہلی تاریخ گورداسپور میں پڑی۔گو یہ سارے مقدمات ایک ہی وقت میں پہلو بہ پہلو چلتے رہے،