حیات طیبہ — Page 311
311 اشاعت غیر معین عرصہ کے لئے ملتوی کر دی۔اس دوران میں مولوی کرم الدین صاحب نے حضرت اقدس حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب ایڈیٹر الحکم اور حضرت مولوی فضل دین صاحب بھیروی پر انہی خطوط کے بارہ میں مقدمہ دائر کر دیا۔یہ مقدمہ دواڑ ہائی سال تک چلتا رہا۔کتاب مذکورہ نامکمل رکی پڑی رہی اور اسی حالت میں حضور کی وفات کے بعد ۲۵ /اگست ۱۹۰۹ء کو شائع ہوئی۔۳۔اشاعت تحفہ گولڑویہ: اس کتاب کا ذکر او پر آچکا ہے کہ اس کی ابتدائے تصنیف 1900ء میں ہوئی اور تکمیل 1901 ء میں۔البتہ اشاعت ۱۹۰۲ ء میں ہوئی۔۴- اشاعت تحفہ غزنویہ: یہ کتاب بھی ۱۹۰۰ء میں تصنیف کی گئی تھی مگر اشاعت ۱۹۰۲ء میں ہوئی۔۵- خطبہ الہامیہ: اس کتاب کا ابتدائی حصہ تو وہ ہے جو حضور نے ۱۹۰۰ ء کی عید الاضحیہ کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے بطور خطبہ عید دیا تھا۔مگر بقیہ تصنیف 1901ء میں کی تھی۔البتہ اشاعت اس کی بھی ۱۹۰۲ ء میں ہوئی۔تریاق القلوب: اس کے متعلق مفصل نوٹ ۱۸۹۹ء کے حالات میں لکھا جا چکا ہے کہ یہ کتاب ۱۸۹۹ء میں لکھی گئی تھی۔ہاں اشاعت اس کی بھی ۱۹۰۲ء میں ہوئی۔ے۔کشتی نوح: اس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے۔- تحفہ الندوہ: یہ کتاب رسالہ ”قطع الوتین مصنفہ ابو اسحاق محمد دین کے جواب میں لکھی گئی تھی۔اس کتاب میں حضور نے آیت لَوْ تَقَولَ عَلَيْنَا۔۔۔۔۔۔۔۔الخ پر مفصل بحث کی ہے۔۹ - اعجاز احمدی: اس کتاب کا ذکر او پر مفصل آچکا ہے۔۱۰ - ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی : اس رسالہ کا ذکر بھی اوپر آچکا ہے۔مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کی قادیان میں آمد۔۱۰؍ جنوری ۱۹۰۳ء او پر اعجاز احمدی کی تصنیف کے عنوان کے ماتحت اس امر کا ذکر کیا جا چکا ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے مباحثہ مد میں یہ بھی کہا تھا کہ (حضرت ) مرزا صاحب کی کوئی پیشگوئی سچی ثابت نہیں ہوئی اور اس کے جواب میں حضرت اقدس نے لکھا تھا کہ : ہم ان ( مولوی ثناء اللہ صاحب) کو مدعو کرتے ہیں کہ وہ اس تحقیق کے لئے قادیان آویں اور تمام پیشگوئیوں کی پڑتال کریں۔“ مولوی صاحب موصوف اس سلسلہ میں ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ء کو قادیان پہنچے اور حضرت اقدس کے پاس ٹھہرنے کی بجائے اسلام اور سلسلہ احمدیہ کے اشد ترین مخالف آریوں کے ایک مندر میں قیام پذیر ہوئے اور