حیات طیبہ — Page 310
310 ۲۔دوسری سنت۔اور اس جگہ ہم اہل حدیث کی اصطلاحات سے الگ ہو کر بات کرتے ہیں۔یعنی ہم حدیث اور سنت کو ایک چیز قرار نہیں دیتے۔جیسا کہ رسمی محدثین کا طریق ہے بلکہ حدیث الگ چیز ہے اور سنت الگ چیز سنت سے مراد ہماری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فعلی روش ہے جو اپنے اندر تو اُتر رکھتی ہے اور ابتداء سے قرآن کے ساتھ ہی ظاہر ہوئی اور ہمیشہ ساتھ ہی رہے گی یا به تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف خدا کا قول ہے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل اور قدیم سے عادت اللہ یہی ہے کہ جب انبیاء علیہم السلام خدا کا قول لوگوں کی ہدایت کے لئے لاتے ہیں تو اپنے فعل سے یعنی عملی طور پر اس قول کی تفسیر کر دیتے ہیں۔تا اس قول کا سمجھنا لوگوں پر مشتبہ نہ رہے اور اس قول پر آپ بھی عمل کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی عمل کرواتے ہیں۔۳۔تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے اور حدیث سے مراد ہماری وہ آثار ہیں کہ جو قصوں کے رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قریبا ڈیڑھ سو برس بعد مختلف راویوں کے ذریعہ سے جمع کئے گئے ہیں۔تصنیفات ۱۹۰۲ء ا۔دافع البلاء: اس کتاب کی تصنیف اور اشاعت کا ذکر کی قدر تفصیل کے ساتھ اُو پر گذر چکا ہے۔۲- نزول مسیح : یہ کتاب جولائی اور اگست ۱۹۰۲ء میں حضرت اقدس کے زیر تصنیف تھی اور ساتھ ساتھ چھپتی بھی جاتی تھی۔ہم لکھ چکے ہیں کہ اس کتاب کی تصنیف کے دوران میں میاں شہاب الدین اور مولوی کرم الدین صاحب سکنہ بھیں کے خطوط مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے سرقہ کے متعلق پہنچے اور حضرت اقدس نے انہیں نزول المسیح ،، میں درج فرمایا۔حضرت اقدس کی کتاب تو ابھی شائع نہیں ہوئی تھی مگر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب ایڈیٹر الحکم نے سبقت کر کے ان خطوط کو اپنے اخبار احکم میں شائع کر دیا۔جس پر مولوی کرم الدین صاحب بگڑ گئے اور انہوں نے احمدیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ اب میں تمہیں سمجھ لوں گا۔چنانچہ جہلم کے اخبار ” سراج الاخبار مورخہ ۶ اکتوبر ۱۹۰۲ء میں ایک خط اور ۱۳/اکتوبر ۱۹۰۲ ء میں ایک قصیدہ شائع کروایا۔جن میں لکھا کہ یہ خطوط جعلی اور جھوٹے ہیں اور میرے لکھے ہوئے ہر گز نہیں ہیں میں نے تو صرف مرزا صاحب کی ملہمیت کو آزمانے کے لئے ایک بچہ سے یہ خطوط لکھوا کر انہیں دھوکا دیا تھا۔ان کی اس کارروائی کو دیکھ کر حضرت اقدس نے نزول مسیح کی ه از رساله ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی