حیات طیبہ

by Other Authors

Page 309 of 492

حیات طیبہ — Page 309

309 احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل منکر ہو گئے تھے اور نمازوں میں جوالتحیات یا درود شریف یا اور دُعائیں پڑھی جاتی ہیں ان کو بھی پڑھنا چھوڑ دیا اور ان کی بجائے قرآنِ کریم کی آیات پڑھنے کو رواج دینا چاہا۔حضرت اقدس کو جب اس بات کا علم ہوا تو آپ نے ان کی اس حالت پر بہت افسوس کیا۔انہی دنوں میں اس شخص کا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ مناظرہ ہوا۔حضرت اقدس چونکہ حکم و عدل تھے۔حضور نے ضروری خیال فرمایا کہ اس مباحثہ کے متعلق صحیح رائے ظاہر کر دی جائے۔چنانچہ ۲۷ نومبر ۱۹۰۳ء کو آپ نے دونوں مولوی صاحبان کے مباحثہ پر ایک معرکۃ الآراء دیو یولکھا۔جس میں فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ ان ہر دو فریق میں سے ایک فریق نے افراط کی راہ اختیار کر رکھی ہے اور دوسرے نے تفریط کی۔فریق اول یعنی محمد حسین صاحب اگر چہ اس بات میں سچ پر ہیں کہ احادیث نبویہ مرفوعہ متصلہ ایسی چیز نہیں ہیں کہ ان کو رڈی اور اغو سمجھا جائے لیکن وہ حفظ مراتب کے قاعدہ کو فراموش کر کے احادیث کے مرتبہ کو اس بلند مینار پر چڑھاتے ہیں۔جس سے قرآن شریف کی ہتک لازم آتی ہے اور اس سے انکار کرنا پڑتا ہے اور یہ صریح غلطی ہے اور جادۂ انصاف سے تجاوز ہے اللہ جلشانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللهِ وَايَاتِهِ يُؤْمِنُونَ یعنی خدا اور اس کی آیتوں کے بعد کس حدیث پر ایمان لائیں گے۔۔۔۔اور ان کے مخالف مولوی عبداللہ صاحب نے تفریط کی راہ پر قدم مارا ہے جو سرے سے احادیث سے انکار کر دیا ہے اور احادیث سے انکار ایک طور سے قرآن شریف سے بھی انکار ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔قُل اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ - پس جبکہ خدا تعالیٰ کی محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے وابستہ ہے اور آنجناب کے عملی نمونوں کے دریافت کے لئے جن پر اتباع موقوف ہے۔حدیث بھی ایک ذریعہ ہے۔پس جو شخص حدیث کو چھوڑتا ہے وہ طریق اتباع کو بھی چھوڑتا ہے۔“ آگے چل کر حضور فر ماتے ہیں: اور صراط مستقیم جس کو ظاہر کرنے کے لئے میں نے اس مضمون کو لکھا ہے یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھ میں اسلامی ہدایتوں پر قائم ہونے کے لئے تین چیزیں ہیں۔۱۔قرآن شریف جو کتاب اللہ ہے جس سے بڑھ کر ہمارے ہاتھ میں کوئی کلام قطعی اور یقینی نہیں وہ خدا کا کلام ہے وہ شک اور خطن کی آلائشوں سے پاک ہے۔