حیات طیبہ — Page 298
298 کے تین ماہ تک چندہ بھیجنے سے لا پرواہی کی اس کا نام بھی کاٹ دیا جائے گا اور اس کے بعد کوئی مغرور اور لا پر وا جو انصار میں داخل نہیں۔اس سلسلہ میں ہرگز نہ رہے گا۔اے طاعون کا نشان اور جماعت کی غیر معمولی ترقی او پر ہم لکھ چکے ہیں کہ حضرت اقدس نے سب سے پہلے ۲۶ فروری ۱۸۹۸ء کو ایک اشتہار کے ذریعہ لوگوں کو اپنی ایک خواب کا ذکر کر کے بتایا تھا کہ ملک میں طاعون پھیلنے والا ہے اور اس کا علاج سوائے تو بہ واستغفار کے اور کوئی نہیں۔پھر ۱۷ار مارچ ۱۹۰۱ء کو جبکہ اس ملک میں طاعون سے کہیں کہیں موتیں ہونا شروع ہوگئیں تو آپ نے لوگوں کو تمسخر اور استہزاء اور آزادی و بے راہ روی سے باز رہنے اور اپنے اندر ایک پاک تبدیلی پیدا کرنے کی تلقین فرمائی تھی۔مگر افسوس کہ لوگوں نے اس بر وقت انتباہ سے فائدہ نہ اُٹھایا۔بلکہ ہنسی اور تمسخر میں اور بھی بڑھ گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خدائے ذوالجلال کا غضب زمین پر بھڑ کا اور ۱۹۰۲ء میں اس قدر طاعون نے زور پکڑا کہ لوگ گتوں کی طرح دیوانہ وار مرنے لگے۔ایک ایک گھر میں بعض اوقات سارے کے سارے افراد طاعون میں مبتلا پائے گئے اور کوئی شخص انہیں پانی تک دینے والا نظر نہ آتا تھا۔لاشیں گھروں میں پڑی سڑتی تھیں اور کوئی انہیں اُٹھا کر دفن کرنے کی جرات اور طاقت نہیں رکھتا تھا۔ایک تو اس لئے کہ طاعون سے بچے ہوئے لوگ طاعون زدہ مریض کے پاس اس ڈر کی وجہ سے نہیں جاتے تھے کہ کہیں ہم بھی اس خبیث مرض میں مبتلا نہ ہو جائیں۔دوسرے کثرت و شدت مرض کی وجہ سے شاذ و نادر کے طور پر اگر کوئی شخص بچا ہوا نظر آتا تو وہ ایک انار وصد بیمار کا مصداق ہوتا۔وہ غریب کس کس کی خدمت اور جان بری کی کوشش کر سکتا تھا۔نتیجہ یہ تھا کہ لوگ ایک سخت اور ہولناک مصیبت میں مبتلا تھے۔حضرت اقدس نے ان حالات کی وجہ سے ہدایات الہیہ کی روشنی میں’دافع البلاء و معیار اہل الاصطفاء“ کے نام سے ایک رسالہ شائع فرمایا۔سے جس میں ایک تو لوگوں کو ظاہری صفائی کی تلقین فرمائی۔دوسرے اصل اور حقیقی علاج کی طرف توجہ دلائی جو یہ تھا کہ وہ اپنے گناہوں اور شرارتوں سے تو بہ کر کے اپنے خالق و مالک سے سچی صلح کریں اور جس شخص کو خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں مامور کر کے بھیجا ہے۔اس کی طرف رجوع کریں۔اس کتاب میں آپ نے وہ الہام بھی لوگوں کو یاد دلایا۔جسے آپ ۲۶ مئی ۱۸۹۸ء کے اشتہار میں شائع فرما چکے تھے کہ إنَّ اللَّهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ _ یعنی خدا نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اس بلائے طاعون کو ہر گز دُور نہیں کرے گا۔جب تک لوگ ان خیالات کو دُور نہ کرلیں جو ان کے دلوں میں ہیں۔یعنی جب تک وہ خدا کے مامور اور رسول کو مان نہ لیں۔تب له از اشتهار ۵ مارچ ۱۹۰۲ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد دهم سے جو ۲۳ / اپریل ۱۹۰۲ ء کو شائع کیا گیا