حیات طیبہ

by Other Authors

Page 281 of 492

حیات طیبہ — Page 281

281 براہین اور مؤثر تقریروں سے ملک کے تعلیم یافتہ لوگوں اور یورپ کے حق کے طالبوں تک پہنچایا جائے۔چنانچہ آپ نے اس کے لئے ۱۵ جنوری ۱۹۰۱ ء کو ایک ضروری تجویز کے عنوان سے اشتہار شائع فرمایا۔جس میں اپنی اس دلی تڑپ اور دردِ دل کا اظہار فرمایا اور تجویز کی کہ مذکورہ بالا مقاصد کے اظہار کے لئے انگریزی زبان میں ایک رسالہ جاری کیا جائے اور اس کے نظم ونسق کے لئے جو بہتر طریق ہو اس پر عمل کیا جائے۔اور اس تجویز پر غور کرنے کے لئے آپ نے اعلان فرمایا کہ دوست عید الاضحیہ کے روز قادیان میں جمع ہوں اور اس بارہ میں مشورہ دیں کہ کیا انتظام کیا جائے جس سے یہ رسالہ جاری ہو سکے۔چنانچہ ۳۱ مارچ ۱۹۰۱ ء کو سب احباب کے مشورہ سے یہ قرار پایا کہ اس رسالہ کا نظم ونسق ایک انجمن کے سپرد کیا جائے۔جس کا نام انجمن اشاعت اسلام ہو۔اور رسالے کا نام ریویو آف ریلیجن“ رکھا گیا اور ایڈیٹر مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے اور خواجہ کمال الدین صاحب مقرر کئے گئے اور قرار پایا۔کہ رسالہ یکم اکتوبر ۱۹۰۱ء سے نکلنا شروع ہو جائے۔اس اثناء میں مولوی محمد علی صاحب حضرت اقدس سے ہدایات حاصل کر کے خود بھی مضامین تیار کریں اور جو مضامین حضور لکھ کر دیں ان کا بھی ترجمہ انگریزی زبان میں کرتے رہیں۔مگر بعض وجوہ سے مقررہ تاریخ کو یہ رسالہ نکل نہ سکا۔۲۴ نومبر کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کا پھر اجلاس ہوا اور یہ قرار پایا کہ رسالہ انگریزی جنوری ۱۹۰۲ء سے ضرور جاری کر دیا جائے اور اگر تین سوخریداروں کی درخواستیں اردو میگزین کے لئے بھی آجائیں تو اس کا ایک ایڈیشن اردو میں بھی نکال دیا جائے۔چنانچہ رسالہ جاری کر دیا گیا۔ظہور طاعون۔مارچ ۹۰۱اء ناظرین کو یاد ہوگا کہ حضرت اقدس نے ۲۶ فروری ۱۸۹۸ء کو ملک میں طاعون پھوٹنے کے بارہ میں ایک پیشگوئی شائع فرمائی تھی جس میں لکھا تھا کہ مجھے یہ دکھلایا گیا ہے کہ اس ملک کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگائے گئے ہیں اور وہ طاعون کے پودے ہیں اور حضور نے یہ بھی اطلاع دی تھی کہ تو بہ اور استغفار سے وہ پودے نابود ہو سکتے ہیں۔مگر ان ایام میں وہ اشتہار تو بہ اور استغفار کی بجائے تمسخر اور استہزاء کے ساتھ پڑھا گیا۔اب جبکہ ملک میں طاعون پھوٹ پڑا اور کہیں کہیں اس سے موتیں ہونا شروع ہوگئیں تو حضور نے از راہ ہمدردی پھر ایک اشتہار طاعون“ کے عنوان سے شائع فرمایا۔جس میں ۲۶ فروری ۱۹۸ء کی پیشگوئی کو یاد دلانے کے بعد لکھا کہ سواے عزیزو! اس غرض سے پھر یہ اشتہار شائع کرتا ہوں کہ سنبھل جاؤ اور خدا سے ڈرو اور ایک پاک تبدیلی دکھلاؤ۔تا خدا تم پر رحم کرے اور وہ بلا جو بہت نزدیک آ گئی ہے۔خدا اس کو نا بود لے غالباً یہ ذکر کرنا بے محل نہ ہوگا کہ انگریزی اور اردو دونوں رسالوں میں متعدد مضامین حضرت اقدس کے لکھے ہوئے ہیں۔مگر حضور کا نام ساتھ نہیں لکھا گیا لیکن حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں کا کثرت کے ساتھ مطالعہ کرنے والے فورا ہی پہچان جاتے ہیں۔مؤلف۔