حیات طیبہ

by Other Authors

Page 272 of 492

حیات طیبہ — Page 272

272 اس کے بعد حضرت اقدس لکھتے ہیں کہ : پھر بعد اس کے میاں شہاب الدین لکھتا ہے کہ میں ہر ایک شخص کو جو مہر علی کی اس خیانت کو دیکھنا چاہے اس کی یہ قابل شرم چوری دکھلا سکتا ہوں۔بلکہ اس نے خود پیر مہر علی شاہ کا دستخطی ایک کارڈ بھیج دیا ہے جس میں وہ اس چوری کا اقرار کرتا ہے لیکن بعد اس کے یہ بیہودہ جواب دیتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں مجھے اجازت دیدی تھی کہ اپنے نام پر اس کتاب کو چھاپ دیں لیکن یہ عذر بدتر از گناہ ہے کیونکہ اگر اس کی طرف سے یہ اجازت تھی کہ اس کے مرنے کے بعد مہر علی اپنے تئیں اس کتاب کا مؤلّف ظاہر کرے تو کیوں مہر علی نے اس کتاب میں اس اجازت کا ذکر نہیں کیا اور کیوں دعویٰ کر دیا کہ میں نے ہی اس کتاب کو تالیف کیا ہے صاف ظاہر ہے کہ یہ تو بے ایمانی کا طریق ہے کہ ایک شخص وفات یافتہ کی کل کتاب کو اپنی طرف منسوب کر لیا اور اس کا نام تک نہ لیا۔جس حالت میں محمد حسن نے خدا تعالٰی کا مقابلہ کر کے اپنے تئیں اعجاز مسیح کے ٹائیٹل پیج پر مندرجہ پیشگوئی آنه تندم وتذمر کے موافق ایسا نا مراد بنایا کہ جان ہی دیدی اور پھر اعجاز اسیح صفحہ ۱۹۹ کی مباہلانہ دُعا کا مصداق بن کر اپنے تئیں ہلاکت میں ڈال لیا۔تو ایسے کشتہ مقابلہ کے احسان کا ذکر کرنا بہت ضروری تھا اور دیانت کا یہ تقاضا تھا کہ پیر مہر علی شاہ صاف لفظوں میں لکھ دیتا کہ یہ کتاب میری تالیف نہیں ہے بلکہ محمد حسن کی تالیف ہے اور میں صرف چور ہوں نہ یہ کہ دروغگوئی کی راہ سے خطبہ کتاب میں اس تالیف کو اپنی طرف منسوب کرتا۔بلکہ چاہئے تھا کہ اس بد قسمت وفات یافتہ کی بیوہ کے گزارہ کے لئے اس کتاب میں سے حصہ رکھ دیتا۔اور اگر وہ ایسا طریق اختیار کرتا اور فی جلد ۴ ر وصول کر کے مصیبت زدہ کی بیوہ کو دے دیتا تو اس روسیا ہی سے کسی قدر بچ جاتا۔مگر ضرور تھا کہ وہ اس قابل شرم چوری کا ارتکاب کرتا۔تا خدا تعالیٰ کا وہ کلام پورا ہو جاتا کہ جو آج سے کئی برس پہلے میرے پر نازل ہوا۔اور وہ یہ ہے۔اِنِّي مُهِين من آرا در اهانتك۔یعنی میں اس کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کا ارادہ کرے گا۔اس شخص نے کتاب ”سیف چشتیائی میں میرے پر الزام سرقہ کالگایا تھا اور سرقہ یہ کہ کتاب اعجاز مسیح کے تقریبا بیس ہزار فقرہ میں سے دو چار فقرے ایسے ہیں جو عرب کی بعض مشہور مثالیں یا مقاماتِ حریری کے چند جملے ہیں جو الہامی توارد سے لکھے گئے اور اپنی کرتوت اس کی اب یہ ثابت ہوئی جو محمد حسن مردہ کا سارا مسودہ اپنے نام منسوب کر لیا۔۔۔۔۔۔۔دیکھو اہل حق پر حملہ کرنے کا یہ اثر ہوتا ہے کہ مجھے چند فقرہ کا سارق قرار دینے سے ایک تمام و کمال کتاب کا خود چور ثابت ہو گیا اور نہ