حیات طیبہ — Page 240
240 مولوی سید نذیر حسین صاحب دہلوی کا فتویٰ محترم ڈاکٹر صاحب نے اسی پر بس نہیں کی۔مولوی محمد حسین صاحب کے استاد المعروف شیخ الکل مولوی سید نذیر حسین صاحب دہلوی کے پاس بھی پہنچے۔جب اُن کے سامنے استفتاء پیش ہوا تو انہوں نے لکھا کہ شخص مذکور سوال مفتری کذاب - ضال ومضل و خارج اہلِ سنت سے ہے۔“ اس فتوے کے نیچے دہلی کے بعض علماء نے بھی دستخط کر دیئے۔حضرت اقدس کی خدمت میں جب مولوی صاحبان کے یہ فتوے پہنچے۔تو حضور نے ۳/ جنوری ۱۸۹۹ء کو ایک اشتہار کے ذریعہ ان تمام فتاویٰ کو شائع کر دیا۔لے حضرت اقدس کا یہ اشتہار دیکھ کر مولوی محمد حسین صاحب کے تو ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔اور فتوے دینے والے مولوی صاحبان میں بالچل پڑ گئی۔بعض نے تو یہ لکھ دیا کہ ہم نے مولوی محمد حسین صاحب پرفتوی دیاری نہیں مرزا غلام احد پر دیاہے لیے باقی علماء میں سے دونے بیلکھا کہ ہم نے قومی کسی خاص شخص پر نہیں دیا بلکہ استفتاء کے مطابق دیا ہے۔۔حضرت اقدس نے اپنے مذکورہ بالا اشتہار۔۔۔الہام جَزَاءُ سَيِّئَةِ سَيِّئَةً بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةً شِ کر کے لکھا کہ جو پیشگوئی میں نے ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کو شائع کی تھی وہ پوری ہوگئی اور لکھا کہ مولوی محمد حسین صاحب نے تو میری طرف جھوٹی باتیں اور غلط عقائد منسوب کر کے میرے لئے علماء سے کفر کے فتوے حاصل کئے تھے۔مگر خود سچ مچ اہلسنت والجماعت کے عقائد سے انحراف کر کے محض انگریزوں کو خوش کر کے مرتبعے حاصل کرنے کے لئے ان فتاویٰ کا شکار ہو گئے۔کیا یہ ان کے لئے عبرت کا مقام نہیں؟ کہ ذلیل تو مجھے کرنا چاہتے تھے۔مگر ہو گئے خود۔اگر غور کیا جائے تو حضرت اقدس پر تو مولوی صاحبان کے فتووں کا ذرہ بھر بھی اثر نہیں ہوسکتا تھا۔کیونکہ حضور مدی ماموریت تھے حضور پر اگر فتوے نہ لگتے تو حضور کی صداقت مشتبہ ہوسکتی تھی۔پھر حضور پر فتوے لگانے والے ایک مدعی صادق اور مامور من اللہ کی تکذیب و تکفیر کے مجرم تھے لیکن مولوی محمد حسین صاحب پر ان مولویوں نے فتوے لگائے جو ان کو اپنا لیڈر مانتے تھے۔کیا ایک مذہبی لیڈر کے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی ذلت ہوسکتی ہے؟ فاعتبروا یا اولی الابصار۔لے دیکھے تبلیغ رسالت جلد ہشتم صفحہ ۶ تا ۹ سے دیکھیں اشتہارات ۲۰ جنوری و ۲۱ جنوری ۱۸۹۹ ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد هشتم صفحه ۳۸ تا ۳۹ اپنے فتوئی پر افسوس کرنے والے مولوی صاحبان مولوی عبدالحق اور مولوی عبد الجبار غزنوی تھے جنہوں نے ایک اشتہار کے ذریعہ اپنی تحریر سے بیزاری کا اظہار کیا۔دیکھئے حوالہ مذکور سے یہ دونوں مولوی صاحبان مفتی محمد عبد اللہ ٹونکی پروفیسر اور مینٹل کالج لاہور وسیکرٹری انجمن مستشار العلماء اور مولانا غلام محمد البوی امام مسجد شاہی لاہور تھے۔دیکھئے اشتہار ۲۰ جنوری ۱۸۹۹ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد هشتم صفحه ۴۱۹۴۰