حیات طیبہ

by Other Authors

Page 233 of 492

حیات طیبہ — Page 233

233 بھی ان کو کوئی نقصان نہ پہنچ سکا تو انہوں نے مالی نقصان پہنچانے کی غرض سے آپ کے خلاف انکم ٹیکس کا مقدمہ قائم کرا دیا۔جو بٹالہ کے ایک ہندو تحصیلدار کی عدالت میں دائر ہوا۔آپ نے عذرداری کرنی چاہی۔مگر عذر داری کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ حساب کتاب کا روز نامچہ پیش کیا جائے۔خدام روز نامچہ تیار کر رہے تھے کہ حضرت اقدس پر کشفی حالت طاری ہو کر معلوم ہوا کہ ہند و تحصیلدار صاحب تبدیل ہو گئے ہیں اور ان کی جگہ ایک مسلمان تحصیلدار صاحب آئے ہیں۔انشاء اللہ مقدمہ کا انجام بخیر ہوگا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ وہ ہند و تحصیلدار صاحب بدل گئے اور ان کی جگہ ایک مسلمان تحصیلدار صاحب جن کا نام تاج الدین تھا آگئے۔اور انہوں نے پوری جانچ پڑتال کرنے کے بعد ڈ پٹی کمشنر کی خدمت میں یہ پورٹ پیش کر دی کہ چندے کے ذریعہ ان کے پاس جو روپیہ آتا ہے وہ سب کا سب قومی کاموں پر خرچ ہوتا ہے اور ان کی ذاتی آمدنی اس لائق نہیں ہے کہ اس پر قانونا ٹیکس لگایا جاسکے۔۳۱ اگست ۱۸۹۸ء کو تحصیلدار صاحب نے رپورٹ پیش کی اور ۱۷ رستمبر ۱۸۹۸ء کو ڈپٹی کمشنر گورداسپور مسٹر ٹی ڈیکسن نے اپنا فیصلہ دیا۔جس میں لکھا کہ: ہمیں اس شخص ( حضرت اقدس مؤلف کی نیک نیتی پر شبہ کرنے کے لئے کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی اور ہم کو اس کی آمدنی کو جو چندے کے ذریعے سے ہوتی ہے جسے وہ ۵۲۰۰ بیان کرتا ہے ٹیکس سے مستقلی کرتے ہیں۔کیونکہ زیر دفعہ (۵) (E) وہ محض مذہبی اغراض کے لئے صرف کی جاتی ہے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو دعوت مباہلہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی حضرت اقدس سے عداوت اور دشمنی کسی باخبر انسان سے مخفی نہیں۔آپ ہی تھے جنہوں نے تمام ہندوستان میں پھر کر قریبا دو سو مولویوں سے آپ کے خلاف کفر کا فتویٰ حاصل کیا۔اور آپ ہی تھے جنہوں نے یہ الفاظ کہے تھے کہ میں نے ہی مرزا کو اونچا کیا تھا اور میں ہی اُسے نیچے گراؤں گا۔“ اور آپ ہی تھے جو دن رات حضرت اقدس کو نقصان پہنچانے کی فکر میں مستغرق رہتے تھے۔آپ کی اس معاندانہ روش میں کسی قسم کی کمی نہ پا کر حضرت اقدس کے کچھ مریدوں نے تمام اہل اسلام کو مخاطب کر کے اکتوبر ۱۸۹۸ء میں ایک اشتہار شائع کیا جس میں مخالفوں سے کہا کہ اگر آپ لوگ اپنے آپ کو اپنے معتقدات میں سچا سمجھتے ہیں۔تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے کہیں کہ وہ حضرت اقدس سے مباہلہ کے لئے تیار ہو جا ئیں۔اگر انہوں لے نزول امسیح صفحه ۲۲۹ وضرورة الامام صفحه ۳۵