حیات طیبہ — Page 219
219 مولوی محمد حسین بٹالوی کی گواہی اس مقدمہ میں مولوی محمد حسین بٹالوی عیسائیوں کی طرف سے گواہ تھے۔وہ جب بیان دینے کے لئے ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں آئے تو وہ اپنے دل میں یہ خیال کر رہے تھے کہ کچہری پہنچ کر وہ حضرت اقدس کو گرفتار ہونے کی صورت میں دیکھیں گے مگر جب وہ کچہری میں پہنچے تو دیکھا کہ حضرت اقدس کرسی پر تشریف فرما ہیں۔اس پر انہوں نے بھی صاحب ڈپٹی کمشنر سے گری کا مطالبہ کیا۔اس پر صاحب موصوف نے فرمایا۔کہ عدالت میں تجھے کرسی نہیں مل سکتی۔مگر مولوی صاحب نے اصرار کیا اور کہا کہ مجھے بھی کرسی ملتی ہے اور میرے باپ کو بھی۔یہ سن کر صاحب بہادر کو غصہ آ گیا اور انہوں نے فرمایا کہ تو جھوٹا ہے۔نہ تجھے گرسی ملتی ہے اور نہ تیرے باپ رحیم بخش کو ملتی تھی۔تب مولوی محمد حسین صاحب نے کہا کہ میرے پاس چٹھیات ہیں۔لاٹ صاحب مجھے کرسی دیتے ہیں۔یہ سن کر ڈ پٹی کمشنر صاحب سخت ناراض ہوئے اور کہا کہ ” بک بک مت کر۔پیچھے ہٹ اور سیدھا کھڑا ہو جا۔‘لہ شہادت ختم ہوئی مولوی محمد حسین صاحب نے اپنے بیان میں جو الزامات وہ حضرت اقدس پر لگا سکتے تھے۔لگائے ،لیکن اُن کے جواب میں حضرت اقدس کا انداز یہ تھا کہ ایک موقعہ پر جب آپ کے وکیل مولوی فضل دین صاحب نے مولوی محمد حسین صاحب پر ایسا سوال کیا جس سے اُن کے نسب اور کیریکٹر پر دھبہ لگتا تھا تو حضرت اقدس فوراً اپنی کرسی سے اُٹھے اور مولوی فضل دین صاحب کے منہ کی طرف ہاتھ بڑھا کر فرمایا کہ ہم اس قسم کا سوال کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔۔۔مولوی محمد حسین صاحب کی سبک سری و دنائت اور حضرت اقدس کی بلند اخلاقی اور عالی حوصلگی کو دیکھ کر ڈپٹی کمشنر صاحب اس نتیجہ پر پہنچے کہ مولوی صاحب (حضرت) مرزا صاحب کے دشمن ہیں۔اس لئے ان کا بیان فضول اور پایۂ اعتبار سے ساقط ہے۔چنانچہ انہوں نے اپنے فیصلہ میں مولوی صاحب کے بیان کا ذکر ہی نہیں کیا۔شہادت دینے کے بعد جب مولوی صاحب کمرہ عدالت سے باہر نکلے تو اندر کے معاملہ پر پردہ ڈالنے کے لئے ایک کرسی پر جو باہر کے کمرہ میں تھی۔بیٹھ گئے۔اردلیوں کو چونکہ معلوم تھا کہ اس شخص کو اندر گری نہیں ملی۔اس لئے انہوں نے مولوی صاحب کو کرسی سے اٹھا دیا۔پھر مولوی صاحب پولیس کے کمرہ کی طرف گئے اور اتفاقا ایک اور گری باہر کے کمرہ میں بچھی ہوئی تھی۔اس پر بیٹھ گئے۔ابھی وہ بیٹھے ہی تھے کہ کپتان صاحب پولیس کی اُن پر نظر جا پڑی۔انہوں نے اس وقت ایک کنٹیل بھیج کر مولوی صاحب کو گری سے اُٹھا دیا۔سینکڑوں انسانوں نے مولوی صاحب کی اس رسوائی کا نظارہ دیکھا اور یقین کر لیا کہ مولوی صاحب کی اس ذلت کا باعث وہ گواہی ہے جو انہوں صاحب بہادر نے مولوی صاحب کو سیدھا کھڑا ہونے کے الفاظ اس لئے کہے کہ ان کے اور مولوی صاحب کے درمیان ہاتھ سے کھینچا جانے والا پنکھا حائل تھا۔جس کی وجہ سے مولوی صاحب کو صاحب بہادر کا چہرہ دیکھنے کے لئے جھک کر بات کرنا پڑتی تھی۔(مؤلف)