حیات طیبہ

by Other Authors

Page 189 of 492

حیات طیبہ — Page 189

189 جلسہ میں شامل نہیں ہو سکے اس لئے مضمون اُن کے ایک قابل اور فصیح شاگردمولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے پڑھا۔۲۷ / تاریخ والا مضمون قریبا ساڑھے تین گھنٹے تک پڑھا گیا اور گویا ابھی پہلا سوال ہی ختم ہوا تھا۔لوگوں نے اس مضمون کو ایک وجد اور محویت کے عالم میں سنا اور پھر کمیٹی نے اس کے لئے جلسہ کی تاریخوں میں ۲۹ دسمبر کی زیادتی کر دی۔“ اس تقریر کے متعلق جور پورٹ ہندوؤں کی طرف سے مرتب ہوئی اس کے یہ الفاظ ہیں۔پنڈت گوردھن داس کی تقریر کے بعد نصف گھنٹہ کا وقفہ تھا، لیکن چونکہ بعد از وقفہ ایک نامی وکیل اسلام کی طرف سے تقریر کا پیش ہونا تھا۔اس لئے اکثر شائقین نے اپنی اپنی جگہ کو نہ چھوڑا۔ڈیڑھ بجنے میں ابھی بہت سا وقت رہتا تھا کہ اسلامیہ کالج کا وسیع مکان جلد جلد بھر نے لگا اور چند ہی منٹوں میں تمام مکان پر ہو گیا۔اس وقت کوئی سات ہزار کے قریب مجمع تھا۔مختلف مذاہب وملل اور مختلف سوسائٹیوں کے معتد بہ اور ذی علم آدمی موجود تھے۔اگر چہ کرسیاں اور میزیں اور فرش نہایت ہی وسعت کے ساتھ مہیا کیا گیا، لیکن صد ہا آدمیوں کو کھڑا ہونے کے سوا اور کچھ نہ بن پڑا اور ان کھڑے ہوئے شائقینوں میں بڑے بڑے رؤساء۔عماید پنجاب، علماء و فضلاء، بیرسٹر، وکیل، پروفیسر، اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر، ڈاکٹر غرضکہ اعلیٰ اعلیٰ طبقہ کی مختلف برانچوں کے ہر قسم کے آدمی موجود تھے۔انہیں نہایت صبر وتحمل کے ساتھ برابر چار پانچ گھنٹے اس وقت گویا ایک ٹانگ پر کھڑا رہنا پڑا۔اس مضمون کے لئے اگر چہ کمیٹی کی طرف سے صرف دو گھنٹے ہی مقرر تھے لیکن حاضرین جلسہ کو اس سے کچھ ایسی دلچسپی پیدا ہوگئی کہ ماڈریٹر صاحبان نے نہایت جوش اور خوشی کے ساتھ اجازت دی کہ جب تک یہ مضمون ختم نہ ہو تب تک کارروائی جلسہ کو ختم نہ کیا جائے۔ان کا ایسا فرمانا عین اہلِ جلسہ اور حاضرین جلسہ کی منشاء کے مطابق تھا۔کیونکہ جب وقت کے گذرنے پر مولوی ابو یوسف مبارک علی صاحب نے اپنا وقت بھی اس مضمون کے ختم ہونے کے لئے دیدیا۔تو حاضرین اور ماڈریٹر صاحبان نے ایک نعرہ خوشی سے مولوی صاحب کا شکر یہ ادا کیا۔یہ مضمون شروع سے آخر تک یکساں دلچسپی و مقبولیت اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ناظرین اگر اس مضمون کی قدر و قیمت کا اندازہ لگانا چاہیں تو جلسہ کے منتظمین کی طرف سے جو اس جلسہ کی رپورٹ شائع کی گئی تھی اسے ملاحظہ فرمائیں۔اس میں ہر مذہب کے وکیل کی مکمل تقریر درج ہے اور حضرت اقدس کی تقریر تو دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو کر شائع ہو چکی ہے اُردو میں اس کا نام ”اسلامی اُصول کی فلاسفی عربی ے رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب لا ہور صفحہ ۷۹۔۸۰