حیات طیبہ

by Other Authors

Page 177 of 492

حیات طیبہ — Page 177

177 اول۔انسائیکلو پیڈیا برٹین کا جلد ۱۴ میں حضرت مسیح ناصری کی بعض تصاویر شائع کی گئی ہیں۔ل جن سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ناصری نے یقینا سو سال سے زیادہ عمر پائی ہے۔یہ تصاویر روم میں پوپ کے ہاں مقدس امانت کے طور پر محفوظ ہیں اور انسائیکلو پیڈیا میں لکھا ہے کہ دوسری تیسری صدی کے عیسائیوں نے یہ تصاویر تیار کی تھیں۔دوم۔ہمارے سامنے جو انا جیل کے نسخے ہیں۔ان میں واضح طور پر یہ ذکر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام واقعہ صلیب کے بعد آسمان پر اٹھائے گئے تھے۔چنانچہ مرقس کے آخر میں، لوقا کے آخر میں اور یوحنا ۱۳ / ۳ میں مسیح کے آسمان پر جانے کا ذکر موجود ہے لیکن زمانہ حال کے عیسائی محققین نے اناجیل کے پرانے اور مستند نسخے آثار قدیمہ سے حاصل کر کے سامنے رکھے اور یہ ثابت کر دیا کہ یہ سب بیانات الحاقی ہیں۔چنانچہ ء کے آتھورائزڈ ورشن میں یہ سب بیانات شامل ہیں لیکن ۱۸۸۱ء کے ریوائز ڈورشن میں حاشیہ پر یہ نوٹ دے دیا گیا ہے کہ بہترین اور مستند نسخوں میں یہ بیانات کہ حضرت مسیح آسمان پر گئے اور حواریوں نے مسیح کو آسمان پر جاتے دیکھا۔نہیں ملتے۔ظاہر ہے کہ یہ وہ زمانہ تھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی مشہور و معروف کتاب ” براہین احمدیہ تصنیف فرمارہے تھے۔جس سے پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کے کام کے لئے فرشتوں کے ذریعہ رستہ ہموار کرنا شروع کر دیا تھا۔پھر ۱۹۴۶ء کے ریوائز ڈسٹینڈرڈ ورشن سے یہ سب آیات متن سے خارج کر دی گئیں اور حاشیہ پر یہ نوٹ دے دیا گیا کہ کچھ نسخوں میں یہ آیات بھی شامل ہیں۔اور اب تو اُردو انجیل کے حاشیہ میں بھی یہ نوٹ درج کر دیا گیا ہے کہ مرقس کی آخری بارہ آیات جن میں حضرت مسیح کے آسمان پر جانے کا ذکر ہے قدیم نسخوں میں شامل نہیں بلکہ ان آیات کی بجائے مشرق و مغرب میں مسیح کے پیغام کے پہنچنے کا ذکر ہے۔سے سی۔آر۔گریگری نے اس عبارت کا جو تر جمہ دیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح واقعہ صلیب کے بعد مشرق سے ظاہر ہوئے اور مغرب تک ان کے دین کی منادی حواریوں کی معرفت ہوئی گویا آسمان پر جانے کے بیانات کی جگہ قدیم نسخوں میں یہ عبارت تھی کہ واقعہ صلیب کے بعد حضرت مسیح کا ظہور مشرق سے ہوا۔سکے کیا اس ترمیم سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اناجیل اربعہ کے لکھنے والوں کے نزدیک حضرت مسیح ناصری آسمان پر نہیں گئے تھے بلکہ مشرقی ممالک میں ہجرت کر آئے تھے اور وہاں سے مغرب تک حواریوں کی معرفت انہوں نے اپنے دین کی اه قرون اولی کے بعض عیسائی بزرگ بھی حضرت مسیح کی لمبی عمر پانے کے قائل تھے۔چنانچہ دوسری صدی عیسوی میں ایرو نیوس لکھتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری دنیا کیلئے اسوہ کامل ہیں۔وہ بچپن ، جوانی اور بڑھاپے کے ادوار سے گذرے ہیں۔(ملاحظہ ہو۔بشپ ایرونیوس کی کتاب "رد بدعات "باب ۳) سے دیکھئے کتا بچہ مرقس کا آخری ورق مؤلفہ جناب شیخ عبد القادر صاحب لائلپوری سکے ملاحظہ ہوی۔آر گریگری کی کتاب ” دی کمیشن اینڈ دی ٹیکسٹ آف دی نیوٹیسٹنٹ 66