حیات طیبہ

by Other Authors

Page 167 of 492

حیات طیبہ — Page 167

167 مباحثہ کی بنیاد پڑی تھی اُکسایا۔کہ جس شخص کو تم مباحثہ میں اپنا نمائندہ بنارہے ہو یعنی حضرت اقدس کو۔وہ تو تمام مسلمانوں کے نزدیک کافر ہے۔تم کسی اور عالم کو کیوں اس کام کے لئے کھڑا نہیں کرتے۔مگر انہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہمارے نمائندے تو حضرت مرزا صاحب ہی رہیں گے۔حضرت اقدس نے اس رسالہ میں ان حالات پر روشنی ڈالی۔ہے۔جنگ مقدس: اس کتاب میں مباحثہ امرتسر کی کیفیت اور فریقین کے پرچے درج ہیں۔تحفہ بغداد: حضرت اقدس نے یہ کتاب ایک شخص سید عبدالرزاق قادری بغدادی کے ایک اشتہار اور ایک خط کے جواب میں بزبان عربی تصنیف فرمائی تھی۔اس کتاب میں حضور نے اپنے دعاوی پر نہایت شرح وبسط کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔کرامات الصادقین : حضرت اقدس نے اس کتاب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں چار عربی قصائد اور سورہ فاتحہ کی تفسیر بیان فرمائی ہے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور دیگر حضرات علماء کو بالمقابل عربی میں تفسیر اور قصائد لکھنے کی دعوت دی ہے۔شهادة القرآن : حضرت اقدس نے اس کتاب میں قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے -^ اپنے دعوے مسیح موعود کے دلائل بیان فرمائے ہیں۔جلسہ سالانہ ۱۸۹۳ ء کا التوا ۱۸۹۳ء کا جلسہ سالانہ آپ نے دو وجوہ کی بناء پر ملتوی فرما دیا۔لے اول یہ کہ گذشتہ سال کے جلسہ کے موقعہ پر جگہ کی قلت کی وجہ سے بعض مہمانوں نے باہم محبت و مواخات اور زہد اور پر ہیز گاری کا اعلیٰ نمونہ پیش نہیں کیا تھا۔جس کا حضرت اقدس کو رنج تھا۔دوسرے یہ کہ جگہ کی بھی ابھی خاصی قلت تھی اور متعدد اہم تصانیف کی وجہ سے مصارف بھی بہت زیادہ ہو چکے تھے۔حضرت سیٹھ عبدالرحمن، حاجی اللہ رکھا صاحب مدراسی کی معیت میں مولوی حسن علی صاحب کی قادیان میں آمد مولوی حسن علی صاحب بھاگلپور صوبہ بہار کے رہنے والے اور پٹنہ ہائی سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے۔اسلام لے دیکھئے اعلان مشمولہ شہادۃ القرآن