حیات طیبہ — Page 162
162 دیتے کہ ہائے میں مر گیا۔میں پکڑا گیا۔آتھم صاحب کی یہ حالت دیکھ کر خانساماں کو جو مسلمان تھا۔موقوف کر دیا گیا اور مسلمانوں کا آنا جانا یکدم بند کر دیا۔موقوفی کے کچھ عرصہ بعد وہ خانساماں مجھے مل گیا اور اس نے آتھم کا سارا حال بیان کیا اور کہا کہ مجھے موقوف کر دیا ہے جب آتھم نے یہ کہا کہ میں پکڑا گیا میں مارا گیا تو میں ان کے پاس ہی کھڑا تھا اس وجہ سے مجھے موقوف کر دیا۔کہ اگر بعد میں کوئی ایسی کیفیت ظاہر ہو تو راز فاش ہو جائے گا۔خانساماں کی زبانی یہ حال سُن کر میں بھی آتھم صاحب کی کوٹھی پر گیا۔دیکھا کہ ایک آدمی پہرہ پر کھڑا ہے اور پادریوں نے اس کو تاکید کی ہوئی ہے کہ کوئی مسلمان یہاں نہ آئے اور کہ دیا جائے کہ کسی مسلمان کو آتھم صاحب سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔میں یہ دیکھ کر واپس چلا آیا اور خانساماں کی بات کی تصدیق ہوگئی۔غیر احمدی مسلمان بھی ملاقات یا کسی کام کے لئے جاتے تو ان کو بھی ملاقات کا موقعہ نہ دیا جاتا۔آتھم صاحب کو کھیل اور تماشہ وغیرہ مشاغل میں مصروف رکھا جاتا اور شطر نج وغیرہ کے ذریعہ اُن کا دل بہلایا جاتا تھا۔مگر آتھم صاحب کی وحشت دن بدن ترقی کرتی چلی جاتی تھی اور ان کی حالت روز بروز تبدیل ہو رہی تھی۔ان کو کسی وقت چین اور آرام نہ آتا تھا۔کبھی ہائے ہائے کرتے کبھی کہتے کہ میں پکڑا گیا اور نہیں بچنے کا۔اُدھر تو آتھم صاحب کی یہ حالت ہوتی جارہی تھی ادھر دوسرے پادریوں کے دلوں میں کھلبلی مچ گئی۔ایک صاحب تو فوت ہو گئے اور ایک صاحب نے گھبرا کر امرتسر چھوڑ دیا اور عین سفر کی حالت میں ریل کے اندر ہی فوت ہو گئے۔پادری رائٹ صاحب کی وفات پر جو افسوس گرجا میں ظاہر کیا گیا۔اس میں عیسائیوں کی مضطر بانہ اور خوفزدہ حالت کا نظارہ مندرجہ ذیل الفاظ سے آئینہ دل پر منقش ہو سکتا ہے۔جو اس وقت بعض پادریوں کے منہ سے نکلے اور وہ یہ ہیں۔”آج رات خدا کے غضب کی لاٹھی بے وقت ہم پر چلی اور اس کی خفیہ تلوار نے بیخبری میں ہم کو قتل کیا۔اے پادری رائٹ صاحب امرتسر کے آنریری مشنری تھے۔انہوں نے سب کچھ منظور کیا پر حق کو قبول نہ کیا۔جب عیسائیوں نے دیکھا کہ آتھم صاحب کی حالت بگڑتی جاتی ہے تو مشورہ با ہمی سے چاہا۔کہ وہ کسی اور جگہ پہنچادیئے جائیں۔چنانچہ انہیں لدھیانہ بھیج دیا گیا۔جب وہاں بھی انہیں چین نہ ملا تو گجرات بھیجا۔وہاں بھی آرام وقرار نہ آیا تو فیروز پور لے گئے۔آتھم صاحب کی وہ سجی ہوئی کوٹھی جو ان کے زعم میں بہشت کا نمونہ تھی اور بڑے شوق سے بنوائی لے حاشیہ انوار الاسلام صفحہ ۱۰