حیات طیبہ — Page 145
145 وجہ سے وہ اعلیٰ مرتبہ مکالمہ الہیہ اور اجابت دعاؤں کا مجھے حاصل ہوا ہے کہ بجز سچے نبی کے پیرو کے اور کسی کو حاصل نہ ہو سکے گا اور اگر ہندو عیسائی وغیرہ اپنے باطل معبودوں سے دُعا کرتے کرتے مر بھی جائیں۔تب بھی ان کو وہ مرتبہ نہیں مل سکتا۔اور وہ کلامِ الہی جو دوسرے نلنی طور پر اس کو مانتے ہیں۔میں اس کوشن رہا ہوں اور مجھے دکھلایا اور بتلایا گیا ہے اور سمجھایا گیا ہے کہ دنیا میں فقط اسلام ہی حق ہے اور میرے پر ظاہر کیا گیا کہ یہ سب کچھ بہ برکت پیروی حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تجھ کو ملا ہے اس کی نظیر دوسرے مذاہب میں نہیں۔کیونکہ وہ باطل پر ہیں۔اب اگر کوئی سچ کا طالب ہے خواہ وہ ہندو ہے یا عیسائی یا آریہ یا یہودی یا برہمو یا کوئی اور ہے۔اس کے لئے یہ خوب موقعہ ہے کہ میرے مقابل پر کھڑا ہو جائے۔اگر وہ امور غیبیہ کے ظاہر ہونے اور دُعاؤں کے قبول ہونے میں میرا مقابلہ کر سکا تو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اپنی تمام جائیداد غیر منقولہ جو دس ہزار روپیہ کے قریب ہوگی اس کے حوالہ کر دونگا یا جس طور سے اس کی تسلی ہو سکے اس طور سے تاوان ادا کرنے میں اس کو تسلی دونگا۔“ بالخصوص عیسائیوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ : اگر آپ لوگ یہ کہیں کہ ہم مقابلہ نہیں کرتے اور نہ ایمانداروں کی نشانیاں ہم میں موجود ہیں تو اسلام لانے کی شرط پر یکطرفہ خدا تعالیٰ کے کام دیکھو اور چاہئے کہ تم میں سے جونامی اور پیش رو اور اپنی قوم میں معزز شمار کئے جاتے ہیں وہ سب یا ان میں سے کوئی ایک میرے مقابل پر آوے اور اگر مقابلہ سے عاجز ہو تو صرف اپنی طرف سے یہ وعدہ کر کے کہ میں کوئی ایسا کام دیکھ کر جو انسان سے نہیں ہو سکتا۔ایمان لے آؤں گا اور اسلام قبول کرلوں گا مجھ سے کسی نشان کے دیکھنے کی درخواست کریں اور چاہئے کہ اپنے وعدہ کو بہ ثبت شہادت بارہ کس عیسائی و مسلمان و ہند و یعنی چار عیسائی، چار مسلمان اور چار ہند و مؤکد به قسم کر کے بطور اشتہار کے چھپوا دیں اور ایک اشتہار مجھ کو بھی بھیجدیں اور اگر خدا تعالیٰ کوئی عجوبہ قدرت ظاہر کرے جو انسانی طاقتوں سے بالا تر ہو۔تو اسلام کو قبول کر لیویں اور اگر قبول نہ کریں تو پھر دوسرا نشان یہ ہے کہ میں اپنے خدا تعالیٰ سے چاہوں گا کہ ایک سال تک ایسے شخص پر کوئی سخت و بال نازل کرے جیسے جذام یا نا بینائی یا موت اور اگر یہ دعا منظور نہ ہو تو پھر بھی ہر ایک تاوان کا جو بھی تجویز کی جائے سزاوار ہوں گا۔یہی شرط حضرات آریہ صاحبوں کی بھی خدمت میں ہے اگر وہ اپنے وید کو خدا تعالیٰ کا کلام سمجھتے ہیں اور ہماری پاک کتاب کلام اللہ کو انسان کا افتر اخیال کرتے ہیں تو وہ مقابل پر آویں اور یا درکھیں