حیات طیبہ — Page 144
144 تبختر کے اظہار کے لئے اس کو ایک بے حقیقت چیز قرار دیا اور اپنے رسالہ اشاعت السنتہ میں آپ کو عربی علوم سے بے بہرہ، علم قرآن سے بے خبر اور نعوذ باللہ من ذلک کذاب اور دجال قرار دیا۔حضرت اقدس تو تبلیغ حق کے لئے ہمیشہ موقعہ کے منتظر رہتے تھے۔آپ نے فورا ایک اشتہار شائع کر کے مولوی صاحب کو عربی زبان میں بالمقابل تفسیر نویسی کا چیلنج کیا۔اور زباندانی میں مقابلہ کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ایک فصیح و بلیغ قصیدہ لکھنے کی دعوت دی اور اعلان کیا کہ اگر مولوی محمد حسین صاحب حقائق و معارف کے بیان کرنے اور فصیح و بلیغ عربی تحریر کرنے نیز مدحیہ اشعار لکھنے میں منصفان تجویز کردہ کی رُو سے مجھ پر غالب آگئے یا میرے برابر ہی رہے تو میں اسی وقت اپنی خطا کا اقرار کرلوں گا اور اپنی کتب جلا دوں گا لیکن اگر مولوی صاحب میرا مقابلہ کرنے سے عاجز رہے تو ان کا فرض ہوگا کہ اپنی کتابیں جلا کر میرے ہاتھ پر تو بہ کریں۔اے حضرت اقدس کے اس اشتہار کے جواب میں گو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنی علمی مشیخت کے اظہار کے لئے لکھ تو دیا کہ میں ہر بات میں آپ کے ساتھ مقابلہ کے لئے مستعد ہوں لیکن عملاً کسی بات میں بھی مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں نہ اُترے اور حضور کے وصال تک ہر روحانی اور علمی مقابلہ سے گریز ہی کرتے رہے۔غیر مسلم حضرات کو دعوت مباہلہ ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کا مقابلہ صرف مسلمانوں کے ساتھ نہیں تھا بلکہ اُن کے تو عقائد اور رسوم کی اصلاح کے لئے آپ مبعوث ہوئے تھے لیکن یہ امر بھی آپ کے مقاصد میں سے تھا کہ غیر مسلموں پر اسلام کی خوبیاں ظاہر کر کے انہیں دعوتِ اسلام دیں۔سو علماء اسلام کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ اس مقصد کو بھی آپ نے ہمیشہ ہی سامنے رکھا اور کبھی بھی نظر سے اوجھل نہیں ہونے دیا۔چنانچہ عیسائیوں اور آریوں کے ساتھ مقابلوں کا ذکر ہم گذشتہ صفحات میں کر چکے ہیں۔براہین احمدیہ کی اشاعت سے پہلے بھی آپ نے بیسیوں قیمتی مضامین دیگر مذاہب کے رڈ میں لکھے۔ان کے ساتھ مباحثات کئے۔نشانات دکھانے پر آمادگی کا اظہار فرمایا لیکن انہوں نے کوئی بھی فیصلہ کن طریق اختیار نہ کیا۔اب آخری حجت کے طور پر حضرت اقدس نے انہیں بھی دعوت مباہلہ دی۔چنانچہ آپ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا: اب واضح ہو کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے میری یہ حالت ہے کہ میں صرف اسلام کو سچا مذ ہب سمجھتا ہوں اور دوسرے مذاہب کو باطل اور سراسر دروغ کا پتلا خیال کرتا ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ اسلام کے ماننے سے نور کے چشمے میرے اندر بہ رہے ہیں اور محض محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ل خلاصه اشتہار ۲۰ / مارچ ۱۸۹۳ء