حیات طیبہ — Page 142
التبليغ 142 اس کتاب کے ساتھ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کی تحریک پر حضور نے فقراء اور پیرزادوں کی طرف دعوت اور اتمامِ حجت کی غرض سے ایک خط بھی شائع فرمایا۔جس کے متعلق پہلے حضور کا یہ خیال تھا کہ اسے اُردو میں لکھا جائے لیکن بعض اشارات الہامی سے ایسا معلوم ہوا کہ یہ خط عربی میں لکھنا چاہئے۔اور یہ بھی الہام ہوا کہ ان لوگوں پر اثر بہت کم پڑے گا ہاں اتمام حجت ہوگا۔اس پر حضور نے وہ خط لکھا جو التبلیغ کے نام سے آئینہ کمالات اسلام کے ساتھ شامل ہے۔یہ حصہ کتاب عربی زبان میں حضرت اقدس کی پہلی تصنیف ہے۔جو نظم اور نثر ہر دو کا پر معارف مجموعہ ہے۔ملکه و کشور به کو دعوت اسلام فقراء اور مشائخ پر اتمام حجت کے ساتھ ساتھ حضور نے عربی زبان میں ہی ایک تبلیغی خط ملکہ معظمہ وکٹوریہ کو بھی لکھا۔جس میں ملکہ موصوفہ کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ملکہ معظمہ نے اس خط کو بصد شکر یہ وصول کیا اور اس کے علاوہ حضرت اقدس کی اور تصانیف بھی طلب فرمائیں۔پادریوں کو فکر انہی دنوں میں قدرت الہی سے انگلستان کے پادریوں کو بھی یہ فکر پیدا ہوا کہ عیسائیت کے خلاف جو ایک نئی تحریک ہندوستان میں اُٹھی ہے اس کی طرف بھی خاص توجہ کی ضرورت ہے۔کیونکہ اس تحریک کے بانی نے جس انداز سے اسلام کو پیش کیا ہے اس میں عیسائیت کے لئے ایک خطرہ عظیم در پیش ہے۔چنانچہ ۱۸۹۴ ء کا ذکر ہے کہ لندن میں پادریوں نے ایک عالمی کانفرنس مقرر کی جس میں لارڈ بشپ آف گلوسٹر ریورنڈ چارلس جان کی کوٹ نے نہایت گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ : اسلام میں ایک نئی حرکت کے آثار نمایاں ہیں مجھے ان لوگوں نے جو صاحب تجربہ ہیں بتایا ہے کہ برطانوی حکومت ہندوستان میں ایک نئی طرز کا اسلام ہمارے سامنے آرہا ہے اور اس جزیرے میں بھی کہیں کہیں اس کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔۔۔یہ ان بدعات کا سخت مخالف ہے۔جن کی بناء پر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا مذہب ہماری نگاہ میں قابل نفرین قرار پاتا ہے۔اس نئے اسلام کی وجہ سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پھر وہی پہلی سی عظمت حاصل ہوتی جارہی ہے۔یہ