حیات طیبہ — Page 109
109 صاحب باہر تشریف لائیے۔مولوی صاحب نے ان کی ایک بات کا بھی جواب نہ دیا۔جب زیادہ دیر ہوئی تو وہ بہت چلائے مولوی صاحب نے کہلا بھیجا کہ تم جاؤ۔میں نے حق دیکھ لیا اور حق پالیا۔اب میرا تم سے کچھ کام نہیں ہے۔تم اگر چاہو اور اپنا ایمان سلامت رکھنا چاہتے ہو تو آجاؤ۔اور تائب ہو کر اللہ تعالیٰ سے سرخرو ہو جاؤ اور اس امام کو مان لو۔میں اس امام صادق سے کس طرح الگ ہوسکتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کا موعود اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا موعود ہے۔جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام بھیجا۔چنانچہ وہ حدیث شریف یہ ہے مَنْ أَدْرَكَ مِنْكُم عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَلْيَقْرَتُهُ مِنِّى السّلام - مولوی صاحب یہ حدیث پڑھ کر حضرت اقدس کی طرف متوجہ ہو گئے اور آپ کے سامنے یہ حدیث دوبارہ بڑے زور سے پڑھی اور عرض کیا کہ میں اس وقت بموجب حکم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام کہتا ہوں اور میں بھی اپنی طرف سے اس حیثیت کا جو سلام کہنے والے نے سلام کہا اور جس کو جس حیثیت سے کہا گیا۔سلام کہتا ہوں۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اس وقت ایک عجیب لہجہ اور عجیب آواز سے وعلیکم السلام فرمایا کہ دل سننے کی تاب نہ لائے اور مولوی صاحب مرغ بسمل کی طرح تڑپنے لگے اس وقت حضرت اقدس کے چہرہ مبارک کا بھی اور ہی نقشہ تھا۔جس کو میں پورے طور سے تحریر میں نہیں بیان کر سکتا۔حاضرین و سامعین کا بھی ایک عجیب سرور سے پر حال تھا۔پھر مولوی صاحب نے کہا کہ اولیاء علماء امت نے سلام کہلا بھیجا اور اس کے انتظار میں چل بسے۔آج اللہ تعالیٰ کا نوشتہ اور وعدہ پورا ہوا۔یہ غلام نبی اس کو کیسے چھوڑے یہ مسیح موعود ہیں اور یہی امام مہدی موعود ہیں۔یہی ہیں وہ یہی ہیں وہ۔اور مسیح ابن مریم موسوی مر گئے۔مر گئے۔مر گئے۔بلا شک مر گئے۔وہ نہیں آئیں گے۔آنے والے آگئے آگئے آگئے۔بے شک وشبہ آگئے۔تم جاؤ یا میری طرح سے آپ کے مبارک قدموں میں گرو تا کہ نجات پاؤ۔اللہ تعالیٰ تم سے راضی اور رسول ستم سے خوش ہو۔منتظرین بیرون در کو جب یہ پیغام مولوی صاحب کا پہنچا۔کیا مولوی ملا اور کیا خاص و عام سب کی زبان سے کافر کافر کافر کا شور بلند ہوا اور گالیوں کی بوچھاڑ پڑنے لگی اور سب لوگ منتشر ہو گئے اور بُرا بھلا کہتے ہوئے ادھر ادھر گلیوں میں بھاگ گئے جو کہتے کہ مرزا جادوگر ہے ان کی چڑھ بنی۔تذکرۃ المہدی بحوالہ حیات احمد جلد سوم صفحہ ۱۳۷ تا صفحه ۱۳۹