حیات طیبہ

by Other Authors

Page 91 of 492

حیات طیبہ — Page 91

مخاطب کر کے لکھا کہ 91 اب میں آپ سے دریافت کرتا ہوں کہ اس دعوی سے کیا آپ کی یہ مراد ہے کہ موعود مسیح وہ ابن مریم نہیں جس کے قیامت سے پہلے آنے کا قرآن و حدیث میں وعدہ ہے اور وہ آپ ہی ہیں۔اس کا جواب صرف ہاں یا نہ میں فرما دیں۔مولوی صاحب کے اس مطالبہ کے جواب میں حضرت اقدس نے تحریر فرمایا کہ آپ کے استفسار کے جواب میں صرف ”ہاں“ کافی سمجھتا ہوں۔‘سے حضور کے اس جواب کے بعد پھر با قاعدہ خط و کتابت شروع ہوگئی اور یا تو مولوی صاحب کا یہ حال تھا کہ وہ آپ کی کفش برداری کو باعث عزت سمجھتے تھے اور یا اب یہ حال ہو گیا کہ اس زمانہ میں ان سے بڑھ کر مخالفت آپ کی اور کسی نے نہیں کی۔مولوی محمد حسین کی خواہش مناظرہ فروری ۱۸۹۱ء کے آخر یا مارچ کے شروع میں آپ لدھیانہ تشریف لے گئے۔مولوی صاحب کے ساتھ خط وکتابت برابر جاری تھی۔مولوی صاحب نے آپ کے ساتھ مناظرہ کی طرح ڈالنی چاہی جسے حضرت اقدس پسند نہیں فرماتے تھے کیونکہ حضور کے خیال میں مناظرہ سے چنداں فائدہ نہیں ہو سکتا تھا مگر اس خیال سے کہ شاید حاضرین میں سے کوئی صاحب فائدہ اُٹھا لیں۔آپ نے اس شرط کے ساتھ مناظرہ منظور فرمالیا کہ مناظرہ تحریری ہونا چاہئے کیونکہ زبانی باتیں آخر منجر بہ فتنہ ہوتی ہیں۔ایک شرط حضور نے یہ قرار دی کہ اس مجمع بحث میں وہ الہامی گروہ بھی ضرور شامل ہونا چاہئے جنہوں نے اپنے الہامات کے ذریعہ سے اس عاجز کو جہنمی ٹھہرایا ہے اور ایسا کافر جو ہدایت پذیر نہیں ہوسکتا اور مباہلہ کی درخواست کی ہے۔الہام کی رُو سے کافر اور ملحد ٹھہرانے والے تو میاں عبدالرحمن لکھو کے والے ہیں اور جہنمی ٹھہرانے والے میاں عبد الحق غزنوی ہیں جن کے الہامات کے مصدق و پیرومیاں مولوی عبدالجبار ہیں۔سو ان تینوں کا جلسہ میں حاضر ہونا ضروری ہے تا کہ مباہلہ کا بھی ساتھ ہی تصفیہ ہو جائے۔سے له اشاعت السنتہ جلد ۱۲ نمبر ۱۲ صفحه ۳۵۴۔نوٹ : بعض سیرت نویسوں نے لکھا ہے کہ حضرت اقدس نے ”فتح اسلام سے پہلے ایک اشتہار بھی شائع فرمایا تھا جو آپ کے دعوی کے اعلان پر مشتمل تھا۔واللہ اعلم بالصواب۔سے از مکتوب حضرت اقدس بنام مولوی محمد حسین بٹالوی مورخه ۵ فروری ۱۸۹۱ بحوالہ حیات احمد جلد سوم صفحہ ۶۱ سے مکتوب بنام مولوی محمد حسین بٹالوی۔۸ مارچ ۱۸۹۱ء