حیات طیبہ — Page 78
78 تو خدا رحم کے ساتھ رجوع کرے گا۔خدا تیری برکتیں اردگرد پھیلائے گا اور ایک اُجڑا ہوا گھر تجھ سے آباد کرے گا اور ڈراؤنا گھر برکتوں سے بھر دے گا۔تیری ذریت منقطع نہیں ہوگی اور آخری دنوں تک سرسبز رہے گی۔خدا تیرے نام کو اس روز تک جود نیا منقطع ہو جائے عزت کے ساتھ قائم رکھے گا اور تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دیگا۔میں تجھے اُٹھاؤں گا اور اپنی طرف بلاؤں گا پر تیرا نام صفحہ زمین سے کبھی نہیں اُٹھے گا اور ایسا ہوگا کہ سب وہ لوگ جو تیری ذلّت کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے ناکام رہنے کے درپے اور تیرے نابود کرنے کے خیال میں ہیں وہ خود ناکام رہیں گے اور نا کامی اور نامرادی میں مریں گے لیکن خدا تجھے بکلی کامیاب کرے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔میں تیرے خالص اور دلی محبوں کا گروہ بھی بڑھاؤں گا اور اُن کے نفوس و اموال میں برکت دوں گا اور ان میں کثرت بخشوں گا اور وہ مسلمانوں کے اس دوسرے گروه پر تابروز قیامت غالب رہیں گے جو حاسدوں اور معاندوں کا گروہ ہے۔خدا انہیں نہیں بھولے گا اور فراموش نہیں کرے گا اور وہ علی حسب الاخلاص اپنا اپنا اجر پائیں گے۔تو مجھ سے ایسا ہے جیسے انبیاء بنی اسرائیل (یعنی ظلی طور پر ان سے مشابہت رکھتا ہے ) تو مجھ سے ایسا ہے جیسی میری توحید۔تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں اور وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا بادشاہوں اور امیروں کے دلوں میں تیری محبت ڈالے گا یہاں تک کہ وہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اے منکر و اور حق کے مخالفو! اگر تم میرے بندے کی نسبت شک میں ہو اگر تمہیں اس فضل اور احسان سے کچھ انکار ہے جو ہم نے اپنے بندے پر کیا تو اس نشانِ رحمت کی مانند تم بھی اپنی نسبت کوئی ایسا نشان پیش کرو اگر تم سچے ہو اور اگر تم کبھی پیش نہ کر سکو اور یاد رکھو کہ ہرگز پیش نہ کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو کہ جو نافرمانوں اور جھوٹوں اور حد سے بڑھنے والوں کے لئے تیار ہے۔اس کے بعد ۲۲ مارچ ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں حضرت اقدس نے مصلح موعود کی پیدائش کے لئے اللہ تعالیٰ سے اطلاع پاکر نو سال کی مدت بھی مقررفرما دی چنانچہ الہی وعدہ کے مطابق ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کو مصلح موعود کی پیدائش ظہور میں آگئی۔فالحمد للہ علی ذلک۔یہاں اس امر کو ظاہر کر دینا بے محل نہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ کے مطابق مصلح موعود کی پیشگوئی کے بعد حضرت اقدس کو پہلے ایک لڑکی عطا فرمائی اور پھر ایک لڑکا عنایت فرمایا جو بعد میں بشیر اول کہلایا اور تقریبا سوا ه از اشتهار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء مندرجه تبلیغ رسالت صفحه ۵۸ تا ۶۲