حیات طیبہ

by Other Authors

Page 67 of 492

حیات طیبہ — Page 67

67 قادیان میں حضرت اقدس کے گھر میں بھی آپ کو کچھ مدت رہنے کا موقعہ مل چکا تھا اور آپ حضرت اقدس کی نیکی ، تقومی اور پرہیز گاری سے بخوبی آگاہ تھے۔آپ یہاں سے تبدیل ہو کر کئی جگہ ملازمت کرتے کرتے جب ۱۸۸۴ء میں ملتان پہنچے۔تو آپ کو اپنی صاحبزادی حضرت نصرت جہاں بیگم کے لئے رشتہ کی ضرورت پیش آئی رشتہ کی تلاش کے لیے آپ فرلور خصت لے کر دہلی پہنچے۔نیک داماد ملنے کے لئے بہت دُعائیں کیں اور حضرت اقدس کی خدمت میں بھی دعا کے لئے لکھا۔حضرت کو تو خو د رشتے کی ضرورت تھی۔حضرت میر صاحب کا بیان ہے کہ: اس کے جواب میں مجھے حضرت مرزا صاحب نے تحریر فرمایا کہ میراتعلق میری ( پہلی۔ناقل ) بیوی سے گویا نہ ہونے کے برابر ہے اور میں اور نکاح کرنا چاہتا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ نے الہام فرمایا ہے کہ جیسا تمہارا عمدہ خاندان ہے ایسا ہی تم کو سادات کے عالیشان خاندان میں سے زوجہ عطا کروں گا اور اس نکاح میں برکت ہوگی اور اس کا سب سامان میں خود بہم پہنچاؤں گا تمہیں کچھ تکلیف نہ ہوگی۔یہ آپ کے خط کا خلاصہ ہے۔اور یہ بھی لکھا کہ آپ مجھے پر نیک فنی کر کے اپنی لڑکی کا نکاح مجھ سے کر دیں اور تا تصفیہ اس امر کو مخفی رکھیں اور ر ڈ کرنے میں جلدی نہ کریں۔1 حضرت میر صاحب فرماتے ہیں: پہلے تو میں نے تامل کیا کیونکہ مرزا صاحب کی عمر کچھ زیادہ تھی اور بیوی بچہ موجود تھے اور ہماری قوم کے بھی نہ تھے۔مگر پھر حضرت مرزا صاحب کی نیکی اور نیک مزاجی پر نظر کر کے جس کا میں دل سے خواہاں تھا۔میں نے اپنے دل میں مقرر کر لیا کہ اسی نیک مرد سے اپنی دختر نیک اختر کا رشتہ کر دوں۔نیز مجھے دلی کے لوگ اور وہاں کے عادت واطوار بالکل ناپسند تھے۔‘‘ہے آپ کی زوجہ محترمہ المعروف نانی اماں کو یہ روک تھی کہ وو اول تو دل نہیں مانتا تھا۔دوسرے عمر کا بہت فرق تھا۔تیسرے دہلی والوں میں پنجابیوں کے خلاف سخت تعصب تھا۔“ حضرت نانی اماں کا اپنا بیان ہے کہ ” جب حضرت صاحب نے حضرت میر صاحب کو اپنے لئے لکھا تو میر صاحب نے اس ڈر سے کہ میں برا مانوں گی مجھ سے ذکر نہ کیا۔اس عرصہ میں اور بھی کئی جگہ سے پیغامات آئے مگر میری کسی جگہ تسلی نہ ہوئی۔آخر ایک دن میر صاحب نے ایک لودھیانے کے باشندہ کے متعلق کہا کہ ا حیات ناصر صفحہ ے سے حیات ناصر صفحہ ۸۰۷ ه ، بحوالہ حیات احمد جلد دوم نمبر سوم صفحہ ۷۷