حیات طیبہ — Page 64
64 جان اس سے معطر ہو گیا۔اسی رات خواب میں دیکھا کہ آب زلال کی شکل پر ٹور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں اور ایک نے ان میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمد کی طرف بھیجی تھی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 1 اس زمانہ میں آپ کو یہ بھی الہام ہوا کہ قُل إن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ۔یعنی تو لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ میری پیروی کرو۔سبحان اللہ ! کیا عجیب احسانِ خداوندی ہے کہ آپ کو تو حکم دیتا ہے کہ اگر آپ میرے حضور اعلیٰ درجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجیں اور آپ کے زمانہ کی مخلوق کو یہ حکم دیتا ہے کہ اس زمانہ میں اگر تم مجھ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو اس شخص کی پیروی کرو۔سُبحان اللہ و بحمدہ سبحان الله العظيم۔اللهم صل علی محمد وال محمد - مرز اغلام قادر صاحب کی وفات ۱۸۸۳ء آپ کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب ۱۸۶۸ ء میں بھی ایک مرتبہ شدید بیمار ہو گئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو خواب میں بتلایا تھا کہ آپ کے ایک فوت شدہ بزرگ انہیں بلا رہے ہیں۔اس خواب کی تعبیر چونکہ موت ہوا کرتی ہے اس لئے آپ کو اس سے شدید قلق ہوا۔آپ نے گریہ وزاری سے ان کی صحت کے لئے جناب باری تعالیٰ میں دُعا کی۔کچھ دنوں کے بعد خواب میں دیکھا کہ وہ ایک پورے تندرست کی طرح بغیر سہارے کے مکان میں چل رہے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا دیدی۔فالحمد لله على ذالك اس واقعہ کے پندرہ سال بعد ۱۸۸۳ء میں جبکہ حضور امرتسر میں کسی کام کے سلسلہ میں تشریف فرما تھے آپ کو خواب میں دکھلایا گیا کہ اب قطعی طور پر ان کی زندگی کا جام لبریز ہو چکا ہے اور وہ بہت جلد فوت ہونے والے ہیں۔چنانچہ آپ نے وہ خواب امرتسر میں ہی حکیم محمد شریف صاحب کو سنائی اور اپنے بھائی کو بھی بذریعہ خط اطلاع دی کہ آپ امور آخرت کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ مجھے دکھلایا گیا ہے کہ آپ کی زندگی کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔مرز اغلام قادر صاحب نے تمام گھر والوں کو بھی اس خواب سے مطلع کیا اور پھر چند ہفتہ میں ہی اس جہانِ فانی سے سے گذر گئے۔فانا للہ وانا الیہ راجعون۔ے براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحه ۵۰۲ تریاق القلوب صفحہ ۳۹