حیات طیبہ

by Other Authors

Page 63 of 492

حیات طیبہ — Page 63

63 کیا ہے وہ تو نے نہیں کیا بلکہ اللہ نے کیا ہے۔خدا نے تجھے قرآن کریم کا علم عطا فرمایا ہے تا کہ توان لوگوں کو ہوشیار کرے جن کے باپ دادے ہوشیار نہیں کئے گئے تھے اور تا مجرموں کا راستہ واضح ہو جائے۔لوگوں سے کہہ دے کہ مجھے خدا کی طرف سے مامور کیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے " ایمان لایا ہوں۔اوپر کے الہام اور خوابوں سے یہ امر صاف طور پر عیاں ہو جاتا ہے کہ آسمان پر ماموریت کے عہدہ جلیلہ پر فائز کئے جانے والے شخص کے لئے شرط اعظم یہ تھی کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی محبت کرنے والا ہو کہ جس کی نظیر دنیا میں کہیں نہ مل سکے۔چنانچہ جب یہ شرط آپ میں پائی گئی تو آپ کے حق میں فیصلہ ہو گیا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ - یہ وہ پہلا الہام تھا جو ماموریت کے متعلق آپ پر ہوا۔لیکن چونکہ ابھی تک آپ کو بیعت لینے کا حکم نہیں ملا تھا اس لئے آپ نے بیعت کا اعلان کر کے باقاعدہ کسی جماعت کی بنیاد نہیں رکھی۔بلکہ عام رنگ میں ہی خدمات اسلام سرانجام دیتے رہے۔اسی زمانہ میں آپ کو بعض ایسے الہامات ہوئے جن سے یہ ظاہر تھا کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جبکہ بے شمار مخلوق تجھ سے فیض حاصل کرنے کے لئے تیرے پاس قادیان آئے گی۔دیکھنا۔لوگوں کے کثرت سے آکر ملاقات کرنے کی وجہ سے کہیں گھبرا نہ جانا۔لے غرض جوں جوں مصفی غیب پر آگاہ کرنے کے لئے آپ پر الہامات کا نزول شروع ہوا۔آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اور بھی ترقی کرتے چلے گئے۔کیونکہ آپ اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ ان سب انوار الہی کا نزول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور برکت سے ہی ہو رہا ہے۔اس لئے آپ نے کثرت سے اپنے نبی متبوع صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا شروع کر دیا۔حتی کہ ۱۸۸۳ء میں آپ پر ظاہر کیا گیا کہ آپ کو اور حضرت عیسی علیہ السلام کو ایک ہی جو ہر سے پیدا کیا گیا ہے اور تم دونوں ایک ہی شے کی مانند ہو۔۲؎ انہی ایام میں آپ کو درود شریف پڑھنے کی تلقین ہوئی اور یہ الہام ہوا کہ : صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ سَيِّدِ وُلْدِ آدَمَ وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو سید ولد آدم اور خاتم النبین ہیں ان پر اور ان کی آل پر درود بھیج۔چنانچہ آپ نے اس کثرت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا شروع کر دیا کہ آپ فرماتے ہیں: اس مقام پر مجھ کو یاد آیا کہ ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و ه ترجمه از براہین احمدیہ حصہ سوم صفحه ۲۴۲ سے ترجمہ از حمامۃ البشری صفحہ ۴۲ سے براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحه ۵۰۲، ۵۰۳