حیات طیبہ

by Other Authors

Page 49 of 492

حیات طیبہ — Page 49

49 مگر میں نے ان سب کو جواب دیا کہ میں کسی حالت میں راستی کو چھوڑ نا نہیں چاہتا۔جو ہوگا۔سو ہوگا۔تب اسی دن یا دوسرے دن مجھے ایک انگریز کی عدالت میں پیش کیا گیا اور میرے مقابل پر ڈاکخانہ جات کا افسر بحیثیت سرکاری مدعی کے حاضر ہوا۔اس وقت حاکم عدالت نے اپنے ہاتھ سے میرا اظہارلکھا اور سب سے پہلے مجھ سے یہی سوال کیا کہ کیا یہ خط تم نے اپنے پیکٹ میں رکھ دیا تھا ؟ اور یہ خط اور یہ پیکٹ تمہارا ہے؟ تب میں نے بلا توقف جواب دیا کہ یہ میرا ہی خط اور میرا ہی پیکٹ ہے اور میں نے اس خط کو پیکٹ کے اندر رکھ کر وانہ کیا تھا۔مگر میں نے گورنمنٹ کی نقصان رسانی محصول کے لئے بدنیتی سے یہ کام نہیں کیا۔بلکہ میں نے اس خط کو اس مضمون سے کچھ علیحدہ نہیں سمجھا اور نہ اس میں کوئی سنج کی بات تھی۔اس بات کو سنتے ہی خدا تعالیٰ نے اس انگریز کے دل کو میری طرف پھیر دیا اور میرے مقابل پر افسر ڈاکخانہ جات نے بہت شور مچایا اور لمبی لمبی تقریریں انگریزی میں کیں جن کو میں نہیں سمجھتا تھا۔مگر اس قدر میں سمجھتا تھا کہ ہر ایک تقریر کے بعد زبان انگریزی میں وہ حاکم نو۔نو (No-NO) کر کے اس کی سب باتوں کو رد کر دیتا تھا۔انجام کار جب وہ افسر مدعی اپنے تمام وجوہ پیش کر چکا اور اپنے تمام بخارات نکال چکا۔تو حاکم نے فیصلہ لکھنے کی طرف توجہ کی اور شاید سطر یا ڈیڑھ سطر لکھ کر مجھ کو کہا کہ اچھا۔آپ کے لئے رخصت ! یہ ٹن کر میں عدالت کے کمرہ سے باہر ہوا۔اور اپنے محسن حقیقی کا شکر بجالا یا جس نے ایک انگریز افسر کے مقابل پر مجھ کو ہی فتح بخشی اور میں خوب جانتا ہوں کہ اس وقت صدق کی برکت سے خدا تعالیٰ نے اس بلا سے مجھ کو نجات دی۔میں نے اس سے پہلے یہ خواب بھی دیکھی تھی کہ ایک شخص نے میری ٹوپی اتارنے کے لئے ہاتھ مارا۔میں نے کہا کیا کرنے لگا ہے۔تب اس نے ٹوپی کو میرے سر پر ہی رہنے دیا اور کہا کہ خیر ہے خیر ہے۔غور فرمائیے۔اس مقدمہ میں آپ کے لئے کتنا سخت امتحان تھا۔اگر آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا۔تو شاید اس مشکل امتحان میں ثابت قدم نہ رہ سکتا۔مگر آپ جو صداقت مجسم تھے اپنے موقف پر نہایت استقلال کے ساتھ قائم رہے اور اپنے وکلاء کے مشورہ کو قبول نہ فرما کر عدالت میں صحیح صحیح بیان دیا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ محمد لے آئینہ کمالات اسلام صفحه ۲۹۷ تا ۲۹۹