حیات طیبہ

by Other Authors

Page 47 of 492

حیات طیبہ — Page 47

47 نوٹ: اس جگہ میں نے موقعہ کی مناسبت کے لحاظ سے تائی آئی“ کے الہام کا ذکر کر دیا ہے ورنہ اس کی اصل جگہ ۱۹۰۰ء کے واقعات میں ہے۔آپ کی جدی جائیداد میں حصہ دار بننے کے لئے مرزا اعظم بیگ کی نالش خدا تعالیٰ کے کام بھی عجیب و غریب ہوتے ہیں۔جب تک آپ اپنی جائیداد کے کلیۂ وارث نہیں ہوئے اس وقت تک آپ کی مذکورہ بالا خوابوں اور کشوف کے ماتحت آپ کے گھر کی عزت اور وجاہت میں کمی ہی آتی چلی گئی۔چنانچہ مرزا غلام قادر صاحب کے زمانہ میں مرزا اعظم بیگ سابق اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر نے آپ کے بعض غیر قابض شرکاء کی طرف سے آپ کی جائیداد کی ملکیت میں حصہ دار بننے کے لئے آپ کے خاندان پر نائش کی۔حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ: ” ہمارے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم اپنی فتحیابی کا یقین رکھ کر جوابدہی میں مصروف ہوئے۔میں نے جب اس بارہ میں دُعا کی تو خدائے علیم کی طرف سے مجھے الہام ہوا کہ أجِيْبُ كُلَّ دُعَائِكَ إِلَّا فِي شُرَكَائِكَ پس میں نے سب عزیزوں کو جمع کر کے کھول کر سنا دیا کہ خدائے علیم نے مجھے خبر دی ہے کہ تم اس مقدمہ میں ہرگز فتیاب نہ ہو گے اس لئے اس سے دست بردار ہو جانا چاہیئے، لیکن انہوں نے ظاہری وجو ہات اور اسباب پر نظر کر کے اور اپنی فتحیابی کو متیقن خیال کر کے میری بات کی قدر نہ کی اور مقدمہ کی پیروی شروع کر دی اور عدالت ماتحت میں میرے بھائی کو فتح بھی ہوگئی ، لیکن خدائے عالم الغیب کی وحی کے برخلاف کس طرح ہوسکتا تھا بالآخر چیف کورٹ میں میرے بھائی کو شکست ہوئی اور اس طرح اس الہام کی صداقت سب پر ظاہر ہوگئی۔اے خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے زمانہ میں وہ جائیداد پھر خرید لی گئی اور اس طرح آپ کے خاندان کی کھوئی ہوئی جائیداد پھر واپس آگئی۔اه نزول المسیح صفحه ۲۱۲، ۲۱۳