حیات طیبہ

by Other Authors

Page 41 of 492

حیات طیبہ — Page 41

41 والطارق یعنی قسم ہے آسمان کی جو قضا و قدر کا منبع ہے اور قسم ہے اس حادثہ کی جو آج آفتاب کے غروب کے بعد نازل ہوگا اور مجھے سمجھایا گیا کہ یہ الہام بطور عزا پرسی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور حادثہ یہ ہے کہ آج ہی تمہارا اوالد آفتاب کے غروب کے بعد فوت ہو جائے گا۔سبحان اللہ کیا شان خداوند عظیم ہے کہ ایک شخص جو اپنی عمر ضائع ہونے پر حسرت کرتا ہوا فوت ہوا ہے۔اس کی وفات کی عزا پر سی کے طور پر بیان فرماتا ہے۔اس بات سے اکثر لوگ تعجب کریں گے کہ خدا تعالیٰ کی عزا پرسی کیا معنے رکھتی ہے۔مگر یادر ہے کہ حضرت عز وجل شانہ جب کسی کو نظر رحمت سے دیکھتا ہے تو ایک دوست کی طرح ایسے معاملات اس سے کرتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ہنسنا بھی حدیثوں میں آیا ہے۔وہ انہی معنوں کے لحاظ سے ہے۔‘1 چنانچہ آپ کے والد ماجد اسی دن غروب آفتاب کے بعد وفات پاگئے فَانَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ آپ کو مسجد اقصٰی قادیان کے ایک گوشہ میں دفن کیا گیا۔جس کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ والد کی وفات کے بعد خدائی کفالت پدری سایہ کے اُٹھ جانے کا صدمہ تو طبعی امر تھا۔مگر ساتھ ہی بشریت کے تقاضا کے ماتحت ایک لحظہ کے لئے آپ کے دل میں یہ بھی خیال گذرا کہ وہ آمدنی کے ذرائع جو حضرت والد صاحب کی زندگی کے ساتھ وابستہ تھے۔ان کے منقطع ہو جانے کی وجہ سے نہ معلوم کیا کیا مشکلات پیش آئیں۔اس خیال کا دل میں پیدا ہونا تھا کہ یکدم آپ کو یہ دوسرا الہام ہوا۔آلیس اللهُ بِكَافٍ عَبدَہ۔یعنی کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں۔حضور فرماتے ہیں کہ :- اس الہام نے عجیب سکینت اور اطمینان بخشا اور فولادی میخ کی طرح میرے دل میں دھنس گیا۔پس مجھے اس خدائے عز وجل کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے اپنے مبشرانہ الہام کو ایسے طور سے مجھے سچا کر دکھلایا کہ میرے خیال و گمان میں بھی نہ تھا۔میرا وہ ایسا متکفل ہوا کہ کبھی کسی کا باپ ہرگز متکفل نہیں ہو گا میرے پر اس کے وہ متواتر احسان ہوئے کہ بالکل محال ہے کہ میں ان کا شمار کر سکوں سے یہ الہام چونکہ ایک عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل تھا۔اس لئے آپ نے اسی وقت لالہ ملا وامل صاحب کو تفصیلات سے آگاہ فرما کر امرتسر میں حکیم محمد شریف صاحب کلانوری کے پاس بھیجا کہ ان کی معرفت یہ الفاظ کسی نگینہ کتاب البریه حاشیه صفحه ۳۱۵۹ ۱۶۱ سے کتاب البریہ صفحه ۱۶۲، ۱۶۳