حیات طیبہ — Page 34
34 دوستوں کو دوستوں سے اور رشتہ داروں کو رشتہ داروں سے جدا کر دیتی اور ان میں دائمی مفارقت ڈال دیتی ہے اور کوئی سال بھی اس بات سے خالی نہیں ہوتا کہ عظیم الشان آگ اور المناک حادثہ ظاہر نہ ہوتا ہو۔یہ حالات دیکھ کر میرا دل دنیا سے سرد ہو گیا ہے اور چہرہ غم سے زرد۔اور اکثر حضرت شیخ سعدی شیرازی رحمتہ اللہ علیہ کے یہ دو مصرعے زبان پر جاری رہتے ہیں اور حسرت و افسوس کی وجہ سے آنکھوں سے آنسو بہہ پڑتے ہیں ؎ نا پائیدار عمر پر بھروسہ نہ کر اور زمانے کے کھیل سے بے خبر نہ ہو نیز فرخ قادیانی لے کے دیوان سے یہ دو مصرعہ بھی میرے زخموں پر نمک پاشی کرتے رہتے ہیں ؎ اپنے دل کو دنیائے دوں میں نہ لگا کیونکہ موت کا وقت نا گہاں پہنچ جاتا ہے۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ باقی عمر گوشہ تنہائی اور کنج عزلت میں بسر کروں اور عوام اور ان کی مجالس سے علیحدگی اختیار کروں اور اللہ تعالیٰ سبحانہ کی یاد میں مصروف ہو جاؤں تا تلافی مافات کی صورت پیدا ہو جائے۔؎ عمر کا اکثر حصہ گذر چکا ہے اور اب چند دن باقی رہ گئے ہیں۔بہتر ہے کہ زندگی کی جو چند راتیں باقی ہیں ان کو میں خدا کی یاد میں صبح کر دوں۔کیونکہ دنیا کی کوئی پختہ بنیاد اور زندگی کا کوئی اعتبار نہیں اور حیات مستعار پر کوئی اعتماد نہیں۔جس شخص کو اپنا فکر ہوا سے کسی آفت کا کیا غم “ یہ امر کہ آپ کے والد صاحب نے اس خط کا کیا جواب دیا ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا لیکن قیاس غالب یہی ہے کہ ان قیمتی جذبات کی جن کا اس خط سے اظہار ہوتا ہے۔انہوں نے یقیناً قدر کی ہوگی۔موجودہ تحقیق کی رو سے سب سے پہلا الہام اور شاندار مستقبل کی بشارت ۱۸۶۸ ء یا ۱۸۶۹ء کا واقعہ ہے۔پنجاب میں اہلحدیث فرقہ کی شدید مخالفت تھی۔جس مسجد کے ملاں کو پتہ لگتا تھا کہ اس میں کسی اہلحدیث ( بقول ان کے کسی وہابی ) نے نماز پڑھی ہے بعض اوقات اس کا فرش تک اُکھڑوا دیتا تھا یا دھلوا دیتا تھا۔اُن ایام میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ، مولوی سید نذیر حسین صاحب دہلوی سے نئے نئے تحصیل علم کر کے واپس بٹالہ آئے تھے۔عوام مسلمانوں میں ان کے خلاف شدید جذبات پائے جاتے تھے۔حضرت اقدس جو کسی کام کے سلسلہ میں بٹالہ تشریف لے گئے تو ایک شخص اصرار کے ساتھ آپ کو تبادلہ خیالات کے ان ایام میں حضرت اقدس علیہ السلام فرخ تخلص کیا کرتے تھے اور یہ مصرعہ خود حضور ہی کا ہے۔