حیات طیبہ — Page 405
405 امرتسر تیار ہے۔جہاں تم صوفی عبدالحق غزنوی سے مباہلہ کر کے آسمانی ذلت اٹھا چکے ہو۔“ اس لئے حضرت مفتی صاحب نے اس سے متعلق بھی تجویز پیش کر دی کہ لیکن اگر آپ اس بات پر راضی ہیں کہ بالمقابل کھڑے ہو کر زبانی مباہلہ ہو تو پھر آپ قادیان آسکتے ہیں اور اپنے ہمراہ دس تک آدمی لا سکتے ہیں اور ہم آپ کا زادِراہ آپ کے یہاں آنے اور مباہلہ کرنے کے بعد پچاس روپے تک دے سکتے ہیں۔لیکن یہ امر ہر حالت میں ضروری ہوگا کہ مباہلہ کرنے سے پہلے فریقین میں شرائط تحریر ہو جائیں گے۔اور الفاظ مباہلہ تحریر ہو کر اس تحریر پر فریقین اور ان کے ساتھ گواہوں کے دستخط ہو جائیں گے۔“ 1 حضرت اقدس کی طرف سے حضرت مفتی صاحب کے اس جواب کے بعد مولوی ثناء اللہ صاحب کی طرف سے ۱۲ / اپریل اور ۱۹ / اپریل ؟!ء کے پرچے جو یکجائی طور پر ۱۲ اپریل ۱۹۰۷ء کو شائع ہوئے تھے۔ان میں مولوی صاحب نے پھر یہ لکھا کہ ” میں نے آپ کو مباہلہ کے لئے نہیں بلایا۔میں نے تو قسم کھانے پر آمادگی کی ہے مگر آپ اس کو مباہلہ کہتے ہیں حالانکہ مباہلہ اُس کو کہتے ہیں کہ فریقین مقابلہ پر قسمیں کھائیں۔میں نے حلف اُٹھانا کہا ہے۔مباہلہ نہیں کہا۔قسم اور ہے اور مباہلہ اور ہے۔“ جب مولوی صاحب کے اپنی تحریروں میں بار بار ایک ہی بے محل بات کا اعادہ کئے جانے سے یہ بات ظاہر ہوگئی کہ آپ مباہلہ پر آمادگی تو ظاہر فرمائے جائیں گے لیکن میدان مباہلہ میں کبھی نہیں آئیں گے۔تو حقیقۃ الوحی ان کے بھیجا جانا ضروری نہ سمجھ کر حضرت اقدس نے اپنی طرف سے ” مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ“ کے عنوان سے دُعائے مباہلہ شائع کر دی۔اور یہ چاہا کہ مولوی صاحب جو ابا اس تحریر کے نیچے جو چاہیں اپنی طرف سے دُعائے مباہلہ کے طور پر لکھ کر اپنے اخبار میں شائع کر دیں۔چنانچہ حضرت اقدس کی وہ دعا درج ذیل ہے: مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب۔السلام علی من اتبع الہدی۔مدت سے آپ کے پرچہ اہلحدیث میں میری تکذیب و تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پر چہ میں مردُود۔کذاب۔دجال۔مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعوی مسیح موعود ہونے کا سراسر افتری ہے۔میں نے آپ سے بہت دُکھ اُٹھایا اور صبر کرتارہا۔مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں۔کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں۔اور اه بدر ۴ را پریل ۱۹۰۷ء ے اہل حدیث ۱۹ ر ا پریل ۱۹۰۷ء