حیات طیبہ

by Other Authors

Page 387 of 492

حیات طیبہ — Page 387

387 - إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَنْ يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا۔أُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا وَاعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ أُولَئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَهُمْ۔(سورۃ النساء آیت ۱۵۱ تا ۱۵۳) ترجمہ: وہ لوگ جو خدا اور رسول سے منکر ہیں اور ارادہ رکھتے ہیں کہ خدا اور اس کے رسولوں میں تفرقہ ڈال دیں اور کہتے ہیں کہ بعض پر ہم ایمان لائیں گے اور بعض پر نہیں۔یعنی صرف خدا کا ماننا یا صرف بعض رسولوں پر ایمان لانا کافی ہے۔یہ ضروری نہیں کہ خدا کے ساتھ رسول پر بھی ایمان لاویں۔یا سب نبیوں پر ایمان لاویں۔اور چاہتے ہیں کہ خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر بین بین مذہب اختیار کر لیں۔وہی پکے کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب مہیا کر رکھا ہے۔اور وہ لوگ جو خدا اور رسول پر ایمان لاتے ہیں اور خدا اور اس کے رسولوں میں تفرقہ نہیں ڈالتے۔یعنی یہ تفرقہ پسند نہیں کرتے کہ صرف خدا پر ایمان لاویں۔مگر اس کے رسولوں پر ایمان نہ لاویں۔اور نہ یہ تفرقہ پسند کرتے ہیں کہ بعض رسولوں پر تو ایمان لاویں اور بعض سے برگشتہ رہیں۔ان لوگوں کو خدا ان کا اجر دیگا۔اب کہاں ہیں۔میاں عبد الحکیم خاں مرتد ! جو میری اس تحریر سے مجھ سے برگشتہ ہو گیا۔چاہئے کہ اب آنکھ کھول کر دیکھے۔کہ کس طرح خدا نے اپنی ذات پر ایمان لا نا رسولوں پر ایمان لانے سے وابستہ کیا ہے۔اس میں راز یہ ہے کہ انسان میں تو حید قبول کرنے کی استعداد اس آگ کی طرح رکھی گئی ہے جو پتھر میں مخفی ہوتی ہے اور رسول کا وجود چقماق کی طرح ہے۔جو اس پتھر پر ضرب تو حید لگا کر اس آگ کو باہر نکالتا ہے۔پس ہر گز ممکن نہیں کہ بغیر رسول کی چقماق کے توحید کی آگ کسی دل میں پیدا ہو سکے۔توحید کو صرف رسول زمین پر لاتا ہے اور اسی کی معرفت یہ حاصل ہوتی ہے۔خدا مخفی ہے اور وہ اپنا چہرہ رسول کے ذریعہ دکھلاتا ہے۔‘ل باوجود اس کے کہ ان آیات بینات سے نہایت وضاحت و صراحت کے ساتھ ثابت تھا کہ رسول پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص نجات نہیں پاسکتا۔کیونکہ توحید کی دولت رسول ہی کے دامن سے مل سکتی ہے۔خود ساختہ تو حید کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔لیکن عبد الحکیم خاں اپنی خام خیالی میں اتنی ترقی کر چکے تھے کہ انہوں نے اس سے کچھ فائدہ نہ اُٹھایا اور جیسا کہ حضرت اقدس نے حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۴۸ میں فرمایا تھا کہ عبد الحکیم خاں نے اپنے مرتد ہونے پر ایسی لے حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۲۸،۱۲۷