حیات طیبہ — Page 372
372 نے ایک لمبی تقریر فرمائی۔۳۱ اکتوبر کو حضور کی طبیعت ناساز رہی۔یکم نومبر ۱۹۰۵ ء کو حضرت اقدس خواجہ قطب الدین بختیار کا کی علیہ الرحمۃ کے مزار پر تشریف لے گئے۔اور وہاں لمبی دُعا فرمائی۔حضرت اقدس کو میرزا حیرت ایڈیٹر کرزن گزٹ کا چیلنج میرزا حیرت صاحب دہلوی ایک شہرت پسند آدمی تھے۔انہوں نے سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے اپنے اخبار ” کرزن گزٹ کی یکم نومبر ۱۹۰۵ء کی اشاعت میں حضرت اقدس کو مباحثہ کا چیلنج دے دیا۔اس کے جواب میں حضرت شیخ یعقوب علی صاحب نے ۲ نومبر کو ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا کہ بحیثیت ایک اخبار نویس کے میں مرزا حیرت دہلوی کے ساتھ مناظرہ کرنے کیلئے تیار ہوں۔اس کے علاوہ دہلی کی جماعت نے بھی ایک اشتہار نکالا۔جس میں لکھا کہ آپ کے ہم پیشہ شیخ یعقوب علی صاحب اور مفتی محمد صادق صاحب آپکے ساتھ مناظرہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔بشرطیکہ دہلی کے مشہور مولوی صاحبان یعنی مولوی محمد بشیر صاحب، مولوی عبد الحق صاحب، مولوی ابوالخیر صاحب وغیرہ آپ کے ساختہ پر داختہ کو بذریعہ ایک چھپے ہوئے اشتہار منظور فرمالیں۔اس اشتہار کا نکلنا تھا کہ مرزا حیرت صاحب دریائے حیرت میں ایسے ڈوبے کہ پھر نہ اُبھرے۔دیلی سے روانگی۔۴؍ نومبر ۱۹۰۵ء او پر ذکر کیا جا چکا ہے کہ دہلی جاتی دفعہ لدھیانہ کے احباب کو حضرت اقدس کا شرف زیارت نہیں ہو سکا تھا اور حضور کو اس کا بہت خیال تھا۔اور دہلی پہنچتے ہی فرمایا تھا کہ واپسی پر ہم لدھیانہ میں ضرور قیام کریں گے۔جماعت لدھیانہ کو بھی شرف زیارت نہ ہو سکنے کا بہت قلق تھا۔اس نے حضرت مولوی عبد القادر صاحب لدھیانوی کو دہلی بھیجا تا وہ حضرت اقدس سے جماعت لدھیانہ کی طرف سے درخواست دعوت حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کریں۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب موصوف اس غرض کے لئے دہلی پہنچے جماعت کی درخواست دعوت پیش کی۔جسے حضرت اقدس نے بڑی خوشی سے منظور فرمالیا۔۴/نومبر ۱۹۰۵ ء کی شام کو حضور واپسی کی غرض سے معہ خدام دہلی کے اسٹیشن پر پہنچے خواجہ حسن نظامی مرحوم بھی مشایعت کے لئے پہلے سے موجود تھے۔انہوں نے حضور کی خدمت میں درخواست کی کہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ اور دیگر بزرگانِ دہلی کے مقام اور مرتبے سے متعلق ایک تحریر قادیان سے لکھ کر روانہ فرمائیں۔حضور نے ان کی درخواست منظور فرمائی۔