حیات طیبہ

by Other Authors

Page 323 of 492

حیات طیبہ — Page 323

323 مولوی صاحب کو اس واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں دی جب آپ گورداسپور مکان پر پہنچے۔تو حسب عادت الگ کمرے میں چار پائی پر جالیے مگر اس وقت ہمارے بدن کے رونگٹے کھڑے تھے کہ اب کیا ہوگا۔حضرت مولوی صاحب فرماتے تھے کہ حضور نے تھوڑی دیر کے بعد مجھے بلایا۔میں گیا۔اس وقت حضرت صاحب نے اپنے دونوں ہاتھوں کے پنجے ملا کر اپنے سر کے نیچے دیئے ہوئے تھے اور چت لیٹے ہوئے تھے۔میرے جانے پر ایک پہلو پر ہو کر کہنی کے بل اپنی ہتھیلی پر سر کا سہارا دے کر لیٹ گئے اور مجھ سے فرمایا کہ میں نے آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ وہ سارا واقعہ سنوں کہ کیا ہے اس وقت کمرے میں کوئی اور آدمی نہیں تھا۔صرف دروازے پر میاں شادی خاں کھڑے تھے۔میں نے سارا واقعہ سنایا۔۔۔۔۔حضور خاموشی سے سنتے رہے جب میں شکار کے لفظ پر پہنچا۔تو لیکلخت حضرت اقدس اُٹھ کر بیٹھ گئے اور آپ کی آنکھیں چمک اُٹھیں اور چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا۔یں اس کا شکار ہوں ! میں شکار نہیں ہوں۔میں شیر ہوں اور شیر بھی خدا کا۔وہ بھلا خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال سکتا ہے۔ایسا کر کے تو دیکھے۔“ حضرت مولوی صاحب فرماتے تھے کہ یہ الفاظ کہتے ہوئے آپ کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ کمرے کے باہر بھی سب لوگ چونک اٹھے اور حیرت کے ساتھ ادھر متوجہ ہو گئے۔مگر کمرے کے اندر کوئی نہیں آیا۔حضور نے کئی دفعہ خدا کے شیر کے الفاظ دوہرائے اور اس وقت آپ کی آنکھیں جو ہمیشہ جھکی ہوئی اور نیم بند رہتی تھیں۔واقعی شیر کی آنکھوں کی طرح کھل کر شعلہ کی طرح چمکنے لگی تھیں اور چہرہ اتنا سرخ تھا کہ دیکھا نہیں جاتا تھا۔پھر آپ نے فرمایا۔میں کیا کروں۔میں نے تو خدا کے سامنے پیش کیا ہے کہ میں تیرے دین کی خاطر اپنے ہاتھ اور پاؤں میں لوہا پہننے کے لئے تیار ہوں مگر وہ کہتا ہے کہ نہیں۔میں تجھے ہر ذلّت سے بچاؤں گا اور عزت کے ساتھ بری کروں گا۔“ پھر آپ محبت الہی پر تقریر فرمانے لگے اور قریبا نصف گھنٹہ تک جوش کے ساتھ بولتے رہے، لیکن پھر یک لخت آپ کو بولتے ہوئے اُبکائی آئی اور ساتھ ہی کئے ہوئی جو خالص خون کی تھی جس میں کچھ خون جما ہوا تھا اور کچھ بہنے والا۔حضرت نے قے سے سر اُٹھا کر رُومال سے اپنا منہ پونچھا اور آنکھیں بھی پونچھیں۔جوتے کی وجہ سے پانی لے آئی تھیں۔مگر آپ کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ ئے