حیات طیبہ — Page 322
322 انہیں دنوں آریوں نے گورداسپور میں ایک جلسہ کیا۔جس میں لالہ چند ولعل بھی شامل تھے۔اس جلسہ میں آریوں نے چند ولعل سے کہا کہ آپ جانتے ہیں۔مرزا صاحب ہمارے سخت دشمن اور ہمارے لیڈر لیکھرام کے قاتل ہیں اور اب وہ آپ کے ہاتھ میں شکار ہیں۔اگر آپ نے اس شکار کو جانے دیا تو آپ قوم کے دشمن ہوں گے۔اس پر مجسٹریٹ نے کہا کہ میرا تو پہلے سے خیال ہے کہ ہو سکے تو نہ صرف مرزا کو بلکہ اس مقدمہ میں جتنے بھی اس کے ساتھی اور گواہ ہیں۔سب کو جہنم میں پہنچا دوں مگر کیا کیا جائے۔مقدمہ اس ہوشیاری سے چلایا جارہا ہے کہ کوئی ہاتھ ڈالنے کی جگہ نہیں ملتی تا ہم میں نے قصد کر لیا ہے کہ خواہ کچھ ہو اس پہلی پیشی میں ہی عدالتی کارروائی عمل میں لے آؤں۔حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب فرماتے تھے کہ یہ سارا واقعہ میرے پاس ڈاکٹر محمد اسمعیل خاں صاحب مرحوم ( آف گوڑیانی۔ناقل ) نے بیان کیا اور فرمایا کہ اس جلسہ میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے مسلخواں منشی محمد حسین صاحب موجود تھے اور انہوں نے خود آ کر میرے پاس یہ سارا واقعہ بیان کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ مجسٹریٹ نے جو یہ کہا کہ عدالتی کارروائی عمل میں لے آؤں گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مجسٹریٹ جب چاہے شروع مقدمہ میں یا دوران مقدمہ میں ملزم کو بغیر ضمانت قبول کئے گرفتار کر کے حوالات میں دے سکتا ہے۔یہ کہہ کر محمد حسین کہنے لگے کہ میں باوجود آپ کے سلسلہ کا سخت مخالف ہونے کے یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ ضلع بھر کا سب سے معزز خاندان اس طرح ایک ہندو کے ہاتھ سے ذلیل ہو۔پس میں نے آپ کو یہ خبر پہنچادی ہے۔آپ اس کا کوئی انتظام کر لیں۔اس پر مولوی صاحب نے یہ فیصلہ کیا کہ جلد سے جلد کسی یکہ کا انتظام کر کے حضرت اقدس کو اس واقعہ کی اطلاع کرنی چاہئے۔مگر شہر میں اس قدر مخالفت تھی کہ کوئی بھی پکہ والا تیار نہ ہوا۔تب آپ نے شیخ حامد علی صاحب اور عبد الرحیم صاحب باور چی اور ایک تیسرے شخص کو پیدل قادیان روانہ کیا۔وہ صبح کی نماز کے وقت قادیان پہنچ گئے اور سارا واقعہ حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کر دیا۔حضور نے فرمایا کہ خیر ہم بٹالہ چلتے ہیں۔خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب لاہور سے آتے ہوئے وہاں ہم کو ملیں گے۔ان سے ذکر کریں گے اور وہاں پتہ لگ جائے گا کہ تبدیلِ مقدمہ کے متعلق ان کی کوشش کا کیا نتیجہ ہوا ہے۔چنانچہ اسی دن حضور بٹالہ آگئے۔گاڑی میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب بھی مل گئے۔انہوں نے خبر دی کہ تبدیل مقدمہ کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔پھر حضرت صاحب گورداسپور چلے آئے اور راستہ میں خواجہ صاحب اور