حیات طیبہ

by Other Authors

Page 282 of 492

حیات طیبہ — Page 282

282 کرے۔اے غافلو! یہ نسی اور ٹھٹھے کا وقت نہیں ہے۔یہ وہ بلا ہے جو آسمان سے آتی اور صرف آسمان کے خدا کے حکم سے دُور ہوتی ہے۔“ اس اشتہار میں آپ نے یہ بھی لکھا کہ میں سچ مچ کہتا ہوں کہ اگر ایک شہر جس میں مثلاً دس لاکھ کی آبادی ہو۔ایک بھی کامل راستباز ہوگا تب بھی یہ بلا اس شہر سے دفع کی جائے گی۔پس اگر تم دیکھو کہ یہ بلا ایک شہر کو کھاتی جاتی اور تباہ کرتی جاتی ہے تو یقینا سمجھو کہ اس شہر میں ایک بھی کامل راستباز نہیں۔معمولی درجہ کی طاعون یاکسی اور وبا کا آنا ایک معمولی بات ہے، لیکن جب یہ بلا ایک کھا جانے والی آگ کی طرح کسی شہر میں اپنا مونہہ کھولے تو یقین کرو کہ وہ شہر کامل راستبازوں کے وجود سے خالی ہے۔تب اس شہر سے جلد نکلو۔یا کامل تو به اختیار کرو۔ایسے شہر سے نکلنا جس طرح طبی قواعد کے رُو سے مفید ہے ایسا ہی روحانی قواعد کے رُو سے بھی۔مگر جس میں گناہ کا زہریلا مادہ ہو وہ بہر حال خطر ناک حالت میں ہے۔پاک صحبت میں رہو کہ پاک صحبت اور پاکوں کی دُعا اس زہر کا علاج ہے۔دنیا ارضی اسباب کی طرف متوجہ ہے مگر جڑ اس مرض کی گناہ کا زہر ہے اور تریاقی وجود کی ہمسائگی فائدہ بخش ہے۔“ جماعت کے زیرک احباب سے سالانہ امتحان لینے کی تجویز ستمبر 1901ء میں حضرت اقدس نے ایک اشتہار مفید الاخیار' کے عنوان سے شائع فرمایا۔جس میں اپنی جماعت کے لئے یہ ضروری قرار دیا کہ: ”ہماری اس جماعت میں کم سے کم ایک سو آدمی ایسا اہلِ فضل اور اہل کمال ہو کہ اس سلسلہ اور اس دعوی کے متعلق جو نشان اور دلائل اور براہین قویہ قطعیہ خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمائے ہیں ان سب کا اس کو علم ہو اور مخالفین پر ایک مجلس میں بوجہ احسن اتمام حجت کر سکے اور اُن کے مفتریانہ اعتراضات کا جواب دے سکے اور نیز عیسائیوں اور آریوں کے وساوس شائع کردہ سے ہرایک طالب حق کو نجات دے سکے اور دینِ اسلام کی حقیت اکمل اور ائم طور پر ذہن نشین کر سکے۔پس ان تمام امور کے لئے یہ قرار پایا ہے کہ اپنی جماعت کے تمام لائق اہل علم اور زیرک اور دانشمند لوگوں کو اس طرف توجہ دی جائے کہ وہ ۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۱ ء تک کتابوں کو دیکھ کر اس امتحان کے لئے تیار ہو جائیں اور دسمبر آئندہ کی تعطیلوں پر قادیان میں پہنچ کر امور متذکرہ بالا میں تحریری امتحان دیں۔اس جگہ اسی غرض کے لئے تعطیلات مذکورہ میں ایک جلسہ ہوگا اور مباحث مندرجہ کے متعلق لے اشتہارے ار مارچ ۱۹۰۱ء