حیات طیبہ

by Other Authors

Page 280 of 492

حیات طیبہ — Page 280

280 نمازیں پڑھتے تھے وہ چٹائیاں جلا دی جاتی تھیں۔جس فرش پر احمدی کھڑے ہوتے تھے وہ فرش دھلوایا جا تا تھا۔بلکہ بعض حضرات علماء تو فرش کو اکھڑوا دیتے تھے اور احمدیوں کو جو اذیت پہنچائی جاسکتی تھی وہ پہنچائی جاتی تھی۔فتویٰ دیا گیا تھا کہ اگر احمدی کسی صف میں کھڑا ہو تو ایسا ہی ہے جیسا کہ سور۔ایسی حالت میں قریب کھڑے ہونے والوں کی نماز نہیں ہوسکتی۔وغیرہ وغیرہ۔خدائے ارض و سما بھی ان سارے حالات کو دیکھ رہا تھا۔اس لئے اُس نے اپنے بندے کی معرفت یہ اعلان کروادیا کہ: پس یا درکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متر ڈر کے پیچھے نماز پڑھو۔بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ اِمَامُكُمْ مِّنكُم یعنی جب مسیح نازل ہوگا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں۔بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔پس تم ایسا ہی کرو۔کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں۔اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور ہر ایک حال میں مجھے حکم بھی ٹھہراتا ہے اور ہر ایک تنازعہ کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے۔مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے پس جانو کہ وہ مجھ میں سے نہیں ہے کیونکہ وہ میری باتوں کو جو مجھے خدا سے ملی ہیں۔عزت سے نہیں دیکھتا۔اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں۔‘1 اس اعلان کا اس زمانہ میں تو غیر احمدی مولویوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔بلکہ انہوں نے اس امر کو اپنی فتح پر محمول قرار دیا کہ وہ احمدیوں کو اپنی مساجد سے نکلانے میں کامیاب ہو گئے ہیں، لیکن اب اُلٹا احمدیوں پر الزام دیتے ہیں کہ یہ ہمارے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے اجراء کی تجویز چونکہ آپ کا ایک اہم کام کسر صلیب بھی تھا اور گو دلائل کے لحاظ سے آپ اس کام کو بطریق احسن انجام دے چکے تھے۔لیکن چونکہ وہ لوگ جو صلیب پرستی کے علمبر دار تھے وہ زیادہ تر مغربی ممالک میں رہتے تھے اور ان کی زبان انگریزی تھی اس لئے آپ چاہتے تھے کہ ان تمام سچائیوں اور پاک معارف اور دین اسلام کی حمایت میں پختہ دلائل اور انسانی روح کو اطمینان دینے والی باتوں کو جو آپ پر ظاہر ہوئیں اور ہورہی تھیں تسلی بخش له اربعین نمبر ۳ صفحه ۳۴ حاشیه