حیات طیبہ — Page 264
264 تھے کہ مقابلہ پر تیار ہو جاتے اور نہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی مقبولیت پر بھروسہ تھا کہ اس کی بناء پر مقابلہ کی جرات کرتے مگر کہلاتے تھے سجادہ نشین اور قطب اور ولی۔اس لئے کھلے کھلے انکار میں بھی ان کی قطبیت اور علمیت پر داغ لگتا تھا۔اس لئے ایک ایسی چال چلے کہ مقابلہ کی نوبت بھی نہ آئے اور کام بھی چل جائے۔اور وہ چال یہ تھی کہ انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں لکھا کہ آپ کے شرائط منظور ہیں ، مگر اوّل قرآن وحدیث کی رُو سے آپ کے عقائد کی نسبت بحث ہونی چاہئے پھر اگر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور اُن کے ساتھ کے دو اور مولویوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ آپ اس بحث میں حق پر نہیں ہیں۔تو آپ کو میری بیعت کرنی پڑے گی۔پھر اس کے بعد تفسیر لکھنے کا مقابلہ بھی کر لینا۔ظاہر ہے کہ تفسیر نویسی کے مقابلہ سے گریز کرنے کی یہ ایک راہ تھی۔جو پیر صاحب نے اپنے مریدوں کی عقلوں پر پردہ ڈالنے کے لئے نکالی۔ورنہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ عقائد کے بارہ میں حضرت اقدس کا مولوی محمد حسین صاحب اور اُن کے ساتھی مولویوں کو منصف مان لینا کیا معنی رکھتا تھا۔وہ لوگ تو عقائد کے معاملہ میں آپ پر کفر کے فتوے لگا کر اپنا فیصلہ پہلے ہی دے چکے تھے اور اب وہ اپنے عقائد کے خلاف کس طرح کوئی بات کہہ سکتے تھے، لیکن تفسیر نویسی میں مقابلہ ایک بالکل دوسری صورت رکھتا تھا۔وہ اپنے غلط عقائد پر تو جو اُن کے خیال میں صحیح تھے۔بلاتر دو قسم کھا سکتے تھے لیکن دونوں تفسیروں میں سے جو تفسیر غالب ہو اس کے غلبہ کو چھپانا اور خلاف رائے ظاہر کرنا دوسرے اہلِ علم کی نظر میں اُن کی علمی پردہ دری کرنے والا امر تھا۔اس لئے تفسیر کے متعلق وہ غلط رائے نہیں دے سکتے تھے۔علاوہ ازیں پیر صاحب یہ بھی جانتے تھے کہ حضرت اقدس اپنی کتاب ” انجام آتھم میں یہ عہد کر چکے ہیں کہ آئندہ آپ علمائے زمانہ سے منقولی بخشیں نہیں کریں گے۔پھر آپ اپنے اس عہد کو کیسے توڑ سکتے تھے۔پھر یہ بات معقولیت سے کتنی دور ہے جو پیر صاحب نے کہی کہ بحث عقائد کے بعد مخالف مولویوں سے فیصلہ کرالو۔اور پھر جب وہ فیصلہ تمہارے خلاف کر دیں تو تو بہ کر کے میری بیعت کرو۔اور اس کے بعد تفسیر نویسی میں مقابلہ کرو۔بھلا ایسی صورت میں کہ مخالف علماء کے حضرت اقدس کے خلاف رائے ظاہر کرنے پر جب آپ اپنی تمام کتابیں جلا دیں اور بیعت کرلیں۔تفسیر نویسی میں مقابلہ کا کونسا موقعہ اور وقت رہ جاتا ہے اور تفسیر نویسی میں مقابلہ کس لئے ہوتا۔کیا کوئی شخص مرید بن کر پھر اپنے پیر سے بحث کر سکتا ہے؟ پیر صاحب تو یہ سمجھتے ہوں گے کہ انہوں نے تفسیر نویسی کے مقابلہ سے چھٹکارا حاصل کرنے کا ایک عمدہ بہانہ تلاش کر لیا ہے، مگر اہلِ فہم ان کی اس تجویز پر جتنے بھی متاسف ہوئے ہوں۔کم ہے۔له از اشتهار ۲۵ اگست ۱۹۰۰ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد دوم