حیات طیبہ — Page 263
263 ہوگی کہ کسی فریق کے پاس کوئی کتاب موجود نہ ہو اور نہ کوئی مددگار اور ضروری ہوگا کہ ہر ایک فریق چپکے چپکے بغیر آواز سنانے کے اپنے ہاتھ سے لکھے۔تا اس کی فصیح عبارت اور معارف کے سننے سے دوسرا فریق کسی قسم کا اقتباس یا سرقہ نہ کر سکے۔اور اس تفسیر کے لکھنے کے لئے ہر ایک فریق کو پورے سات گھنٹے مہلت دی جائے گی اور زانو بہ زانولکھنا ہوگا۔نہ کسی پردہ میں۔۔۔۔۔۔اور جب فریقین لکھ چکیں تو وہ دونوں تفسیریں بعد دستخط تین اہل علم کو جن کا اہتمام حاضری و انتخاب پیر مہر علی شاہ صاحب کے ذمہ ہو گا۔سنائی جائیں گی اور ان ہر سہ مولوی صاحبوں کا یہ کام ہو گا کہ وہ حلفا یہ رائے ظاہر کریں کہ ان دونوں تفسیروں اور دونوں عربی عبارتوں میں سے کون سی تفسیر اور عبارت تائید روح القدس سے لکھی گئی ہے اور ضروری ہوگا کہ ان تینوں عالموں میں سے کوئی نہ اس عاجز کے سلسلہ میں داخل ہو اور نہ مہر علی شاہ صاحب کا مرید ہو اور مجھے منظور ہے کہ پیر مہر علی شاہ صاحب اس شہادت کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبدالجبار غزنوی اور مولوی عبد اللہ پروفیسر لاہوری کو یا تین اور مولوی منتخب کریں۔جو اُن کے مرید اور پیرو نہ ہوں مگر ضروری ہوگا۔کہ یہ تینوں مولوی صاحبان حلفا اپنی رائے ظاہر کریں کہ کس کی تفسیر اور عربی عبارت اعلی درجہ پر اور تائید الہی سے ہے۔۔۔۔۔۔۔پس اس طرز کے مباحثہ اور اس طرز کے تین مولویوں کی گواہی سے اگر ثابت ہو گیا کہ در حقیقت پیر مہر علی شاہ صاحب تفسیر اور عربی نویسی میں تائید یافتہ لوگوں کی طرح ہیں اور مجھ سے یہ کام نہ ہو سکا۔یا مجھ سے بھی ہو سکا۔مگر انہوں نے بھی میرے مقابلہ پر ایسا ہی کر دکھایا۔تو تمام دنیا گواہ رہے کہ میں اقرار کر لونگا کہ حق پیر مہر علی شاہ کے ساتھ ہے۔اور اس صورت میں میں یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ اپنی تمام کتابیں جو اس دعوی کے متعلق ہیں جلا دوں گا اور اپنے تئیں مخذول اور مردود سمجھ لوں گا۔۔۔۔۔۔۔لیکن اگر میرے خدا نے اس مباحثہ میں مجھے غالب کر دیا اور مہر علی شاہ صاحب کی زبان بند ہوگئی۔نہ وہ فصیح عربی پر قادر ہو سکے اور نہ وہ حقائق و معارف سورۃ قرآنی میں سے کچھ لکھ سکے یا یہ کہ اس مباحثہ سے انہوں نے انکار کر دیا تو ان تمام صورتوں میں اُن پر واجب ہوگا کہ وہ تو بہ کر کے مجھ سے بیعت کریں اور لازم ہوگا یہ ،، اقرار صاف صاف لفظوں میں بذریعہ اشتہار دس سے دن کے عرصہ میں شائع کر دیں۔“ پیر مہر علی شاہ صاحب کا جواب پیر مہرعلی شاہ صاحب نے جب اس اشتہار کو پڑھا۔تو وہ سخت گھبرائے کیونکہ وہ نہ تو اتنی علمی قابلیت رکھتے بعد میں حضور نے اس مدت کو بڑھا کر ایک مہینہ کر دیا۔دیکھئے ضمیمہ اشتہار دعوت پیر مہر علی شاہ گولڑوی مندرجه تبلیغ رسالت جلد نهم از اشتہار ۲۰ جولائی ۱۹۰۰ء