حیات طیبہ — Page 262
262 گولڑوی رہا کرتے تھے۔سرحدی علاقہ میں یہ پیر صاحب کافی شہرت رکھتے تھے۔انہوں نے حضرت اقدس کے دعاوی کے خلاف ایک کتاب شمس الہدایہ لکھی جس میں اپنی طرف سے حیات مسیح کے حق میں اور وفات مسیح کے خلاف بہت سے دلائل دینے کی کوشش کی۔یہ کتاب کسی طرح سے حضرت اقدس کی خدمت میں بھی پہنچ گئی۔اس کتاب میں چونکہ کوئی نئی دلیل نہیں تھی۔وہی دلائل تھے جن کا جواب آپ متعدد بارا اپنی کتابوں میں دے چکے تھے۔اس لئے حضور نے پیر صاحب کو ایک آسان ترین فیصلہ کی طرف بلایا اور وہ یہ تھا کہ: قرآن شریف سے یہ ثابت ہے کہ جو لوگ در حقیقت خدا تعالیٰ کے راستباز بندے ہیں۔اُن کے ساتھ تین طور سے خدا کی تائید ہوتی ہے۔ا۔اُن میں اور اُن کے غیر میں ایک فرق یعنی ما بہ الامتیاز رکھا جاتا ہے۔اس لئے مقابلہ کے وقت بعض امور خارق عادت ان سے صادر ہوتے ہیں۔جو حریف مقابل سے صادر نہیں ہو سکتے۔جیسا کہ آیت وَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا اس کی شاہد ہے۔۲۔ان کو علم معارف قرآن دیا جاتا ہے اور غیر کو نہیں دیا جاتا۔جیسا کہ آیت لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ اس کی شاہد ہے۔۳۔اُن کی دعائیں اکثر قبول ہو جاتی ہیں اور غیر کی اس قدر نہیں ہوتیں جیسا کہ آیت اُدْعُونی اسْتَجِبْ لَكُمْ اس کی گواہ ہے۔سومناسب ہے کہ لاہور میں جو صدر مقام پنجاب ہے۔صادق اور کاذب کے پر کھنے کے لئے ایک جلسہ قرار دیا جائے اور اس طرح پر مجھ سے مباحثہ کریں کہ قرعہ اندازی کے طور پر قرآن شریف کی کوئی سورۃ نکالیں اور اس میں سے چالیس آیات یا ساری سورۃ (اگر چالیس آیات سے زیادہ نہ ہو) لے کر فریقین یعنی یہ عاجز اور مہر علی شاہ صاحب اوّل یہ دعا کریں کہ یا الہی ! ہم دونوں میں سے جو شخص تیرے نزدیک راستی پر ہے اس کو تو اس جلسہ میں اس سورۃ کے حقائق اور معارف فصیح و بلیغ عربی میں عین اسی جلسہ میں لکھنے کے لئے اپنی طرف سے ایک روحانی قوت عطا فرما اور روح القدس سے اس کی مدد کر اور جو شخص ہم دونوں فریق میں سے تیری مرضی کے مخالف اور تیرے نزدیک صادق نہیں ہے اس سے یہ تو فیق چھین لے۔اور اس کی زبان کو فصیح عربی اور معارف قرآنی کے بیان سے روک لے۔تا لوگ معلوم کر لیں کہ تو کس کے ساتھ ہے اور کون تیرے فضل اور تیری روح القدس کی تائید سے محروم ہے۔پھر اس دعا کے بعد فریقین عربی زبان میں اس کی تفسیر کولکھنا شروع کریں اور یہ ضروری شرط