حیات طیبہ

by Other Authors

Page 258 of 492

حیات طیبہ — Page 258

258 بشپ صاحب کو بھی پہنچا دیا گیا اور حضرت مسیح کا واسطہ دے کر اُن سے درخواست کی گئی کہ اس مباحثہ کوضرور منظور فرمالیں مگر بشپ صاحب تو ایسے مرعوب ہوئے کہ انہوں نے کوئی جواب ہی نہیں دیا حالانکہ ابتدا چیلنج انہوں نے خود دیا تھا۔بشپ صاحب کے ڈرنے کی دو وجوہ تھیں: اوّل یہ کہ حضرت اقدس کے اس اشتہار میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت اور حضرت مسیح کی انجیلی معصومیت کے رد میں زبردست دلائل دیئے گئے تھے۔دوسرے اس روز جس روز حضور کا یہ چینج پادری صاحب کو ملا یعنی ۲۵ رمئی ۱۹۰۰ پر کو۔پادری صاحب نے زندہ رسول کے مضمون پر لیکچر دینے کا اعلان کیا تھا اور حسب سابق اس میں بھی مسلمانوں کو مقابلہ پر آنے کی دعوت دی تھی۔لاہور کے علماء میں تو مقابلہ کے لئے کوئی شخص نہ ملا۔اسلام سے محبت و ہمدردی رکھنے والے لوگ مولوی ثناء اللہ صاحب کو امرتسر سے لائے ، لیکن مولوی صاحب نے ڈاکٹر لیفرائے کا مقابلہ کرنے کی بجائے مسلمانوں کو ان کا لیکچر سننے کے لئے جانے سے روکا۔مسلمانوں نے اپنے علماء کی بے بسی دیکھ کر سخت شرمندگی محسوس کی اور حضرت اقدس کی طرف رجوع کیا۔حضرت اقدس نے روح القدس کی تائید سے ڈاکٹر لیفرائے کے متوقع مضمون سے پہلے ہی ” زندہ رسول“ کے موضوع پر ایک مضمون لکھا اور عجیب بات ہے کہ جو لیکچر پادری صاحب نے دینا تھا۔اس کے دلائل کا مکمل جواب حضور کے اس مضمون میں موجود تھا۔چنانچہ جب پادری صاحب اپنی تقریر ختم کر چکے۔اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے حضرت اقدس کا مضمون پڑھنا شروع کیا تو سامعین یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ کیونکر حضرت مرزا صاحب کو پادری صاحب کے دلائل کا قبل از وقت علم ہو گیا۔جو آپ نے اُن کے دلائل کو نمبر وار توڑ کر رکھ دیا۔بشپ صاحب اور ان کے دوسرے ساتھی بھی اس مضمون کوئن کر ششدر رہ گئے۔کیونکہ یہ مضمون اُن کے لیکچر کا مکمل جواب تھا۔غرض حضرت اقدس کا چیلنج وصول کر کے بشپ صاحب سخت سٹپٹائے اور مباحثہ سے صاف انکار کر دیا۔حضرت اقدس نے جب اس مباحثہ کی شرائط کو شائع کیا تو اس وقت کے مشہور انگریزی اخبارات نے جن کے ایڈیٹرز بھی انگریز تھے۔دلچسپ آراء کا اظہار کیا: ۱- پایونیر نے لکھا کہ اگر ڈاکٹر لیفر ائے مقابلہ کرنا منظور کر لے تو بے شک یہ مباحثہ نہایت ہی دلچسپ ہو گا۔“ ۲۔انڈین اسپیکٹیٹر مشہور انگریزی اخبار نے لکھا کہ : معلوم ہوتا ہے لاہور کے بشپ صاحب نے متانت کو چھوڑ کر جلد بازی کے ساتھ ایک ایسے چیلنج سے گریز اختیار کی ہے جس کا محرک وہ پہلے خود ہی ہوا تھا۔الخ