حیات طیبہ — Page 256
256 اقدس نے فرمایا کہ: بھی میں نے سُرخ الفاظ میں لکھا دیکھا ہے کہ ”مبارک یہ گویا قبولیت کا نشان ہے۔1 خطبہ الہامیہ کی اشاعت ۷ ارا کتوبر ۱۹۰۲ء اس کتاب کے کل ۲۰۴ صفحات ہیں۔اڑتیس صفحات اصل خطبہ کے ہیں اور یہ پہلا باب ہے بعد میں حضور نے دوسرے اور تیسرے باب کا اضافہ فرمایا ہے۔اصل خطبہ میں قربانی کا فلسفہ بیان کیا گیا ہے اور بعد میں حضور نے اپنے دعویٰ پر روشنی ڈالی ہے۔بشپ آف لاہور کو چیلنج ایک پادری صاحب جن کا نام لیفر آئے تھا اور لاہور میں بشپ کے عہدہ پر فائز ہوکر یورپ سے آئے تھے۔انہوں نے لاہور میں آتے ہی معصوم نبی“ اور ”زندہ نبی“ کے مضامین پر لیکچر دینے کا اعلان کیا اور بڑی جرات کے ساتھ مسلمانوں کو مقابلہ کا چیلنج دیا۔چنانچہ ان کا پہلا لیکچر ۱۸ مئی ۱۹۰۰ء کوفور مین چیپل انار کلی لاہور میں نبی معصوم کے موضوع پر ہوا۔اس لیکچر میں انہوں نے ضعیف روایات اور تفاسیر کی بناء پر حضرت مسیح کے سوا سارے انبیاء کو گنہ گار ثابت کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کو چیلنج کیا کہ اگر کسی میں ہمت ہے تو مقابلہ پر آئے۔حضرات علماء جو جلسہ میں موجود تھے لاحول ولاقوۃ پڑھتے ہوئے جلسہ سے چل دیئے۔اتفاقا اس لیکچر میں احمدیت کے شیدائی حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھی موجود تھے۔ان کی غیرت بھلا کب برداشت کر سکتی تھی کہ بشپ صاحب مسلمانوں کو مباحثہ کا چیلنج دیکر فتح کے شادیانے بجاتے ہوئے جلسہ گاہ سے نکل جائیں آپ فوڑ اکھڑے ہوئے اور بآواز بلند کہا کہ پادری صاحب! آپ نے جو دلائل مسیح کی عصمت ثابت کرنے کے لئے اناجیل سے دیئے ہیں وہ کسی محقق کے نزدیک قابل قبول نہیں ہو سکتے۔کیونکہ اناجیل تو حضرت مسیح کے ارادتمندوں کی تصانیف ہیں اور ارادتمند ہمیشہ تعریف کیا ہی کرتے ہیں۔البتہ اگر انہوں نے حضرت مسیح کا اپنا کوئی قول حضرت مسیح کی معصومیت کے ثبوت میں پیش کیا ہو تو پھر وہ واقعی التفات کے قابل ہوگا۔سو جب ہم انا جبیل کو دیکھتے ہیں تو وہاں حضرت مسیح اپنے ایک ارادتمند کے قول کے جواب میں اپنی نسبت صاف طور پر فرماتے ہیں کہ ” تو مجھے نیک کیوں کہتا ہے۔کوئی نیک نہیں سوائے باپ کے جو آسمان پر ہے۔معلوم ہوا کہ وہ اپنے آپ کو معصومیت کے مقام پر کھڑا کرنے کے لئے تیار نظر نہیں آتے البتہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ضرور معصوم ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ انہیں فرماتا ہے۔والله ل الحکم جلد ۴ نمبر ۱۶ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۰ء