حیات طیبہ — Page 255
255 یعنی اس کلام میں خدا کی طرف سے فصاحت بخشی گئی ہے۔1 عید کی نماز کے لئے حضور نے مسجد اقصی ہی میں جمع ہونےکا ارشاد فرمایا تھا۔آٹھ بجے صبح تک مسجد کے اندر کا حصہ اور صحن سارے کا سارا بھر گیا۔انداز دوسو کے قریب مجمع ہو گا۔حضرت اقدس ساڑھے آٹھ بجے تشریف لے آئے۔نماز حضرت مولا نا عبد الکریم صاحب نے پڑھائی اور خطبہ کے لئے حضرت اقدس مسجد کے درمیانے دروازے میں کھڑے ہو گئے۔پہلے خطبہ اردو زبان میں شروع کیا جس میں اسلام کے زندہ مذہب ہونے پر ایک شاندار تقریر کی۔ابھی تقریر ختم نہیں ہوئی تھی کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے عرض کی کہ حضور کچھ جماعت کے اتحاد اور اتفاق کے موضوع پر بھی فرمایا جاوے چنانچہ حضرت اقدس نے اس موضوع پر بھی کچھ وعظ فرما یا۔اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ اب میں الہام الہی کے ماتحت عربی زبان میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔مولوی نورالدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب میرے نزدیک ہو کر بیٹھ جائیں اور خطبہ کے الفاظ نوٹ کرتے جائیں۔حضرت اقدس اس خطبہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: تب میں عید کی نماز کے بعد عید کا خطبہ عربی زبان میں پڑھنے کے لئے کھڑا ہو گیا اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ غیب سے مجھے ایک قوت دی گئی اور فصیح تقریر عربی میں فی البدیہہ میرے منہ سے نکل رہی تھی کہ میری طاقت سے بالکل باہر تھی اور میں نہیں خیال کر سکتا کہ ایسی تقریر جس کی ضخامت کئی جزو تک تھی۔ایسی فصاحت و بلاغت کے ساتھ بغیر اس کے کہ اول کسی کاغذ میں قلمبند کی جائے۔کوئی شخص دنیا میں بغیر الہام الہی کے بیان کر سکے۔جس وقت یہ عربی تقریر جس کا نام ”خطبہ الہامیہ رکھا گیا۔لوگوں میں سنائی گئی۔اس وقت حاضرین کی تعداد شاید دوسو کے قریب ہوگی۔سبحان اللہ ! اس وقت ایک غیبی چشمہ نکل رہا تھا مجھے معلوم نہیں کہ میں بول رہا تھا یا میری زبان سے کوئی فرشتہ کلام کر رہا تھا۔کیونکہ میں جانتا تھا کہ اس کلام میں میرا دخل نہ تھا۔خود بخود بنے بنائے فقرے میرے منہ سے نکلتے جاتے تھے اور ہر ایک فقرہ میرے لئے ایک نشان تھا۔یہ ایک علمی معجزہ ہے جو خدا نے دکھلایا اور کوئی اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتا ہے اس کتاب کے پہلے اڑتیس صفح يَا عِبَادَ اللهِ فَكُرُوا سے لے کر وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمْ خَبِيرٌ - تک اصل خطبہ کے ہیں۔اور باقی مضمون حضور نے بعد میں تحریر فرمایا تھا۔حضور کے خطبہ ختم کرنے کے بعد حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ترجمہ سنانے کے لئے کھڑے ہوئے۔ابھی آپ ترجمہ سنا ہی رہے تھے کہ حضرت اقدس فرط جوش کے ساتھ سجدہ میں جا پڑے۔آپ کے ساتھ تمام حاضرین نے سجدہ شکر ادا کیا۔سجدہ سے سر اُٹھا کر حضرت الحکم ۷ ار ا پریل ۱۹۰۰ء کے حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۶۲-۳۶۳