حیات طیبہ

by Other Authors

Page 212 of 492

حیات طیبہ — Page 212

212 مؤدبانہ رقعہ لکھ کرحضرت اقدس سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔حضرت اقدس چاہتے تو نہیں تھے کہ انہیں ملاقات کا موقعہ دیں کیونکہ اللہ تعالی نے پہلے سے آپ کو بتادیا تھا کہ اس شخص کی سرشت میں نفاق کی رنگ آمیزی ہے، لے لیکن اس خیال سے کہ سفیر مذکور کی دل شکنی نہ ہو۔آپ نے اجازت دے دی۔۱۰ ر یا ا ارمئی ۹۷ء کو سفیر صاحب قادیان پہنچے اور خلوت میں ملاقات کے لئے التجا کی۔حضرت اقدس کا جی تو نہیں چاہتا تھا کہ اسے یہ موقعہ دیں۔کیونکہ اس سے دنیا پرستی کی بُو آتی تھی لیکن تقاضائے حسنِ اخلاق سے اجازت دیدی۔اس ملاقات میں اس نے سلطان روم کے لئے ایک خاص دُعا کرنے کے لئے درخواست کی اور یہ بھی چاہا کہ آئندہ اس کے لئے جو کچھ آسمانی قضا و قدر سے آنے والا ہے اس سے وہ اطلاع پاوے۔“ حضرت اقدس نے اسے صاف فرما دیا کہ ”سلطان کی سلطنت کی حالت اچھی نہیں ہے اور میں کشفی طریق سے اس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں۔“ حضرت اقدس کی یہ باتیں سفیر مذکور کو بہت بری لگیں لاہور واپس پہنچ کر اس نے ایڈیٹر ناظم الہند کے نام ایک خط لکھا جس میں حضرت اقدس کے خلاف بہت کچھ بکو اس کی۔چنانچہ ایڈیٹر مذکور نے خط شائع کر دیا۔جس پر حضرت اقدس نے ایک اشتہار کے ذریعہ اصلی واقعات سے لوگوں کو آگاہ فرمایا۔سے ترکی قونصل کی پردہ دری اس واقعہ کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ اسی سال یعنی ۹۷ء میں یونان اور ٹرکی کی لڑائی ہوگئی۔ہندوستان کے مسلمانوں نے ترکوں کی امداد کے لئے چندہ جمع کر کے ترکی قونصل حسین کا می کو دیا۔جو اس نے ترکی حکومت کے خزانہ میں جمع نہیں کیا۔اس پر جو اس کا حشر ہوا۔وہ قسطنطنیہ کی چٹھی کے مندرجہ ذیل خلاصہ سے ظاہر ہے کہ سلیم پاشا ملمہ کارکن کمیٹی چندہ کو جب خبر پہنچی تو انہوں نے بڑی جانفشانی کے ساتھ اس روپیہ کے اگلوانے کی کوشش کی اور اس کی اراضی مملوکہ کو نیلام کرا کر وصولی رقم کا انتظام کیا اور باب عالی میں غبن کی خبر بھجوا کرنوکری سے موقوف کرا دیا۔سے اخبار چودھویں صدی والے بزرگ کی تو بہ ترکی قونصل حسین بک کامی کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔جب یہ قادیان سے خائب و خاسر ہو کر واپس لاہور اه و ۳ از اشتہار ۲۴ مئی ۹۷ سے تفصیل کے لیے دیکھیں تریاق القلوب صفحہ ۱۲۱، اخبار نیر آصفی مدراس مورخه ۱۲ اکتوبر ۱۸۹۹ء