حیات طیبہ

by Other Authors

Page 187 of 492

حیات طیبہ — Page 187

187 بالا رہے گا۔چنانچہ آپ نے اس وحی الہی کی اشاعت کے لئے مورخہ ۲۱؍دسمبر ۱۸۹۶ء کو یعنی جلسہ سے پانچ چھ روز قبل ایک اشتہار شائع فرمایا۔جو یہ ہے۔جلسہ اعظم مذاہب جو لا ہور ٹاؤن کے ہال میں ۲۶، ۲۸،۲۷؍ دسمبر ۹۶ء کو ہوگا۔اس میں اس عاجز کا ایک مضمون قرآن شریف کے کمالات اور معجزات کے بارہ میں پڑھا جائے گا۔یہ وہ مضمون ہے جو انسانی طاقتوں سے برتر اور خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے اور خاص اس کی تائید سے لکھا گیا ہے۔اس میں قرآن شریف کے وہ حقائق اور معارف درج ہیں۔جن سے آفتاب کی طرح روشن ہو جائے گا کہ در حقیقت یہ خدا کا کلام اور رب العالمین کی کتاب ہے اور جو شخص اس مضمون کو اوّل سے آخر تک پانچوں سوالوں کے جواب سنے گا میں یقین کرتا ہوں کہ ایک نیا ایمان اس میں پیدا ہوگا اور ایک نیا نور اس میں چمک اُٹھے گا اور خدا تعالیٰ کے پاک کلام کی جامع تفسیر اس کے ہاتھ آجائے گی۔یہ میری تقریر انسانی فضولیوں سے پاک اور لاف و گزاف کے دروغ سے منزہ ہے۔مجھے اس وقت محض بنی آدم کی ہمدردی نے اس اشتہار کے لکھنے کے لئے مجبور کیا ہے کہ تا وہ قرآن شریف کے حسن و جمال کا مشاہدہ کریں اور دیکھیں کہ ہمارے مخالفوں کا کس قدر ظلم ہے کہ وہ تاریکی سے محبت کرتے اور ٹور سے نفرت رکھتے ہیں۔مجھے خدائے علیم نے الہام سے مطلع فرمایا ہے کہ یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب رہے گا اور اس میں سچائی اور حکمت اور معرفت کا وہ نور ہے جو دوسری قومیں بشرطیکہ حاضر ہوں اور اس کو اوّل سے آخر تک سنیں۔شرمندہ ہو جائیں گی اور ہرگز قادر نہیں ہوں گی کہ اپنی کتابوں کے یہ کمال دکھا سکیں خواہ وہ عیسائی ہوں خواہ آریہ اور خواہ سناتن دھرم والے یا کوئی اور۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ اس روز اس پاک کتاب کا جلوہ ظاہر ہو۔میں نے عالم کشف میں اس کے متعلق دیکھا کہ میرے محل پر غیب سے ایک ہاتھ مارا گیا اور اس ہاتھ کے چھونے سے اس محل میں سے ایک نور ساطع نکلا جو ارد گرد پھیل گیا اور میرے ہاتھوں پر بھی اس کی روشنی پڑی۔تب ایک شخص جو میرے پاس کھڑا تھا وہ بلند آواز سے بولا۔الله اكبرُ خَرِبَتْ خَيْبَر۔اس کی یہ تعبیر ہے کہ اس محل سے میرا دل مراد ہے جو جائے نزول وحلول انوار ہے اور وہ نور قرآنی معارف ہیں اور خیبر سے مراد تمام خراب مذاہب ہیں جن میں شرک اور باطل کی ملونی ہے اور انسان کو خدا کی جگہ دی گئی۔یا خدا کے صفات کو اپنے کامل محل سے نیچے گرا دیا ہے۔سو مجھے جتلایا گیا ہے کہ اس مضمون کے خوب پھیلنے کے بعد ے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پہلے اس جلسہ کے انعقاد کے لیے ٹاؤن ہال تجویز کیا گیا تھا مگر بعد میں عملاً یہ جلسہ اسلامیہ کالج لاہور کے ہال میں منعقد ہوا۔(مؤلف)