حیات طیبہ — Page 163
163 گئی تھی۔جس کی وجہ سے انہیں حق کے قبول کرنے کی توفیق نہ ملی اور وہ نہایت خوبصورت باغیچہ جو انہوں نے اپنے حسب منشاء تیار کرایا تھا۔دونوں چھوٹ گئے اور جابجا سفر اور سردی گرمی کی تکالیف برداشت کرتے رہے اور کہیں بھی انہیں اطمینان نہ مل سکا اور اسلام کے رڈ اور مخالفت میں جو آتھم صاحب کا قلم ہمیشہ چلا کرتا تھاوہ بھی یکدم بند ہو گیا۔اور عیسائیت کی تائید میں تحریر کا جوش بھی ٹھنڈا ہو گیا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جب آنھم کی میعاد گذرگئی اور وہ رجوع بحق کی وجہ سے پندرہ ماہ میں فوت نہ ہوئے۔تو عیسائیوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ پیشگوئی غلط نکلی۔اس پر حضرت اقدس نے انہیں سمجھایا کہ پیشگوئی میں یہ تھا کہ اگر آتھم رجوع کرے گا تو ہادیہ میں گرائے جانے سے بچ جائے گا اور اگر رجوع نہیں کرے گا تو ہادیہ میں گرایا جائے گا۔چونکہ اس کا خوف اور رجوع ثابت ہے اتنے عرصہ میں اس نے کوئی لفظ اپنی زبان سے اسلام کے خلاف نہیں نکالا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے جو غفور و رحیم ہے اس کی موت ٹال دی۔مگر عیسائیوں نے نہ مانا تھا نہ مانا۔دراصل وہ اپنے اس طرز عمل سے موت کے فرشتہ کو پکار رہے تھے۔جب اُن کا اصرار حد سے بڑھ گیا تو حضرت اقدس کی بھی اسلامی غیرت جوش میں آئی اور آپ نے بذریعہ اشتہار یہ اعلان فرمایا کہ اگر آتھم اس بات پر حلف اُٹھا جائے کہ اس پر پیشگوئی کا خوف غالب نہیں ہوا اور اس نے اپنے قلب میں اسلام اور بانی اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کے بارہ میں اپنے خیالات میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی تو پھر اگر ایک سال کے اندر اندر ہلاک نہ ہو جائے تو میں اسے ایک ہزار روپیہ نقد انعام دوں گا مگر آتھم صاحب بالکل نہیں بولے۔اس پر آپ نے دوسرا اشتہار شائع فرمایا اور اس میں حلف اُٹھانے پر آتھم صاحب کو دو ہزار روپیہ کی پیشکش کی۔مگر آتھم صاحب پھر بھی خاموش ہی رہے۔البتہ دبی زبان سے اتنا اقرارضرور کیا کہ: میں عام عیسائیوں کے عقیدہ ابنیت والوہیت کے ساتھ متفق نہیں اور نہ میں ان عیسائیوں سے متفق ہوں جنہوں نے آپ ( یعنی حضرت اقدس۔ناقل ) کے ساتھ کچھ بیہودگی کی۔“ سے پھر حضرت اقدس نے ایک تیسرا اشتہار دیا اور حلف اٹھانے پر آتھم کو تین ہزار روپیہ دینے کا وعدہ کیا مگر انہیں اس طرف نہ آنا تھا۔نہ آئے۔بالآخر آپ نے بغرض اتمام حجت کاملہ چار ہزار روپیہ انعام کے وعدے پر عبد اللہ آتھم کو قسم کے لئے بلایا مگر وہ پھر بھی تیار نہ ہوئے۔اس اشتہار میں حضرت اقدس نے لکھ دیا تھا کہ: اب اگر آتھم صاحب قسم کھا لیویں ( کہ وہ پیشگوئی کہ نتیجہ میں مرعوب نہیں ہوئے اور کسی جہت سے بھی رجوع نہیں کیا ) تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے اور اگر قسم نہ کھاویں تو پھر بھی اللہ تعالیٰ ل رساله نور احمد صفحه ۳۵ تا ۳۷ اخبار نورافشان ۲۱ ستمبر ۱۸۹۴ء