حیات طیبہ

by Other Authors

Page 140 of 492

حیات طیبہ — Page 140

140 (۲) ابتداء تصنیف آئینہ کمالات اسلام جلسه سالانه ۱۸۹۲ء سال ۱۸۹۲ ء میں بھی ملک کے طول و عرض میں آپ کی شدید مخالفت ہوتی رہی لیکن آپ کے متبعین کی تعداد خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقی کرتی چلی گئی۔چنانچہ جب ۱۸۹۳ ء کا سالانہ جلسہ آیا تو اس میں تین سو ستائیں دوستوں نے شرکت کی۔جلسہ میں حضرت اقدس کی تقریر کے علاوہ حضرت حکیم حافظ مولانا نورالدین صاحب کی تقریر بھی ہوئی۔اس زمانہ میں چونکہ آج کل کی طرح مجلس مشاورت کے لئے الگ ایام مقرر نہیں تھے اس لئے پیش آمدہ دینی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایک قسم کی مجلس مشاورت بھی جلسہ کے ایام میں ہی ہو جاتی تھی۔چنانچہ ۹۲ ء کے جلسہ میں مندرجہ ذیل تجاویز پیش ہوئیں: مؤرخہ ۲۸ / دسمبر ۹۲ ء کو یورپ اور امریکہ کی دینی ہمدردی کے لئے یہ قرار پایا کہ ایک رسالہ جو اہم ضروریات اسلام کا جامع اور عقائد اسلام کا خوبصورت چہرہ معقول طور پر دکھاتا، ہو تالیف ہو کر اور پھر چھاپ کر یورپ اور امریکہ میں بہت سی کا پیاں اس کی بھیجدی جائیں۔بعد اس کے قادیان میں اپنا مطبع قائم کرنے کے لیے تجاویز پیش ہوئی اور ایک فہرست ان صاحبوں کے چندہ کی مرتب کی گئی جو اعانت مطبع کے لیے بھیجتے رہیں گے۔یہ بھی قرار پایا کہ حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی اس سلسلہ کے واعظ مقرر ہوں اور وہ پنجاب اور ہندوستان میں دورہ کریں۔بعد اس کے دُعائے خیر کی گئی۔اے حضرت میر ناصر نواب صاحب کی جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شرکت حضرت میر ناصر نواب صاحب جو ابھی تک پوری طرح سلسلہ کے ساتھ منسلک نہیں ہوئے تھے۔بلکہ آپ بعض شکوک و شبہات میں مبتلا تھے۔ان کو بھی حضرت اقدس نے بذریعہ خطوط جلسہ میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کے سارے شکوک رفع ہو گئے اور انہوں نے صدق دل کے ساتھ حضور کی بیعت کر لی۔فالحمد للہ علی ذلک ہے۔آئینہ کمالات اسلام کی اشاعت فروری ۱۸۹۳ء حضرت اقدس نے مختلف سفروں میں لوگوں سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ عنقریب آپ ایک کتاب ل رپورٹ جلسه سالانه ۹۲ منقول از آئینہ کمالات اسلام سے تفصیل کے لیے دیکھئے۔حیات ناصر و آخر آئینہ کمالات اسلام لکھیں